حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 183
: پہاڑ میں ڈھلوان۔تنگ راستہ۔خاردار جھاڑیوں سے پُر۔پھر اس بُلندی پر چڑھنا پڑے تو تکلیف ہوتی ہے ایسے ہی اس آدمی کا حال ہے۔: اِضلال کن کا ہوتا ہے۔جن کا سینہ حق بات کے ماننے سے تنگی کرے۔: أَيْ یَتَذَکَّرُوْنَ اَمْرِیْ۔جو میرے احکامات کو یاد کرتے رہتے ہیں۔(مرتّب) : احکامِ الہٰی کے ماننے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کو دنیا میں۔قبر میں۔قیامت میں پُل صراط میں۔جنّت میں سلامتی کا گھر ملتا ہے۔پھر خدا اس مومن کا والی ہو جاتا ہے۔: ایسے مومن پر خواہ کس قدر مصبتیں آئیں وہ سلامتی سے نکل جاتا ہے۔وہ ظلمات سے بتدریج نکلتا رہتا ہے۔کئی قسم کی ظلمتیں ہیں۔ا۔ظلمتِ جہل۔۲۔ظلمتِ رسم و عادت۔۳۔ظلمتِ حبّ (حُبَّکَ الشَّیْئَ یُعْمِیْ ونیُصِمُّ ) ۴۔ظلمتِ افلاس و دولت ۵۔ظلمتِ مجلس۔۶۔ظلمتِ شرک ( جس نے عیسائیوں کی عقل دین کے بارے میں باوجود اس درجہ ترقی صنعت و حرفت کے ٗ مار دی ہے) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : فرماں برداری کے لئے سینہ کھُل جاتا ہے۔وہی ہدایت پاتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۳)