حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 180

چاہیئے کہ وہ اپنے مولیٰ کے آگے سر رکھ دے۔چونکہ جانور پر مولیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔اس لئے اس میں اس کے ذبح میں ایک تعلیم حاصل کرنا چاہیئے۔حُرمت کے چار قاعدے ہیں۔ایک وہ حرام ہے جو انسان کی جان کو ہلاک کر دے مثلاً مُردار۔دومؔ وہ جو اخلاق میں شہوت و غضب کو بڑھائے مثلاً سؤر۔سومؔ وہ جو طبعی قوّتوں کو برباد کرے مثلاً لہو جس کی زہر تشنّج۔استرخاء پیدا کرتی ہے۔جو قومیں مُردار۔خون۔سؤر۔غیر اﷲ کے نام کا استعمال کرتی ہیں۔ان میں الہٰیات کے سمجھنے کی قوّت نہیں رہتی۔چہارمؔ جو غیر اﷲ سے تقرّب اور حاجت روائی کے لئے ذبح کیا جاوے اور یہ شرک ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۲۱۔  : گناہ دو قسم کے ہیں۔ایک ظاہر کسی کا مال چُرا لیا۔دُکھ دے دیا۔جھوٹ بول لیا۔ایک باطن یعنی مخفی گناہ مثلاً کینہ، حسد، تکبّر، دوسرے کی تحقیر، حرص، کفر، بعض لوگ خدا کے منکر ہیں۔بعض منکر نہیں۔مگر مان کر پروا نہیں کرتے۔بعض اس خدا کے برابر کسی اور کو بھی قرار دیتے ہیں اور مثال دیتے ہیں کہ جیسے بادشاہ کے پاس بغیر وزیر نہیں جا سکتے ویسے ہی خد کے حضور بجز وساطت نہیں جا سکتے۔یہ مثال غلط ہے کیونکہ بادشاہ بوجہ بشریت و عدم اطلاع معذور ہے۔مگر خدا تو سب کو سُنتا ہے۔چھت کیلئے بے شک سیڑھی کی ضرورت ہے مگر خدا تو اَقرب سے اَقرب ہے۔: اب عام اصول بتلاتا ہے۔کہ جو گناہ کرے اس کے نتائج ضرور بھگتے گا۔اگر اﷲ تعالیٰ عفو نہ کرے۔جن لذّتوں کیلئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔وہی اس کے لئے وبالِ جان بن جاتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء)