حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 177
: کیونکہ (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۔انسان تیز دریا بہتا دیکھ کر دوڑتا چلا آئے کہ اس سے پار نکل جاؤں تو وہ بیوقوف ہے۔۲۔کسی شخص نے مُرغے کو بازو پھڑ پھڑا کر اذان دیتے دیکھا۔کہا۔میرے سامنے اکڑتا ہے میں بھی ایسا کروں گا۔پھر مرغا ایک دیوار سے دوسری دیوار پر چلا گیا۔اس نے بھی زقند لگائی۔تو گر پڑا اور مر گیا۔یہ حَد سے بڑھنے کا نتیجہ ہے۔۳۔قرآن نے مثال دی ہے کہ ایک شخص دُور سے کلّر دیکھ کر اسے پانی سمجھا۔پانی کے لئے دوڑا جب وہاں تک پہنچا تو کچھ بھی نہ پایا۔بلکہ پیاس اور بھی بڑھ گئی۔دیکھو پارہ ۱۸۔ (النور: ۴۰)بعض لوگ غلطی سے جو چیز مفید نہیں اسے مفید سمجھتے ہیں اور مفت کی شیخیاں بگھارتے ہیں۔جیسے مسلمان آگے قلعہ فتح کرنے پر ناز کرتے تھے۔اب بعض ایسے ہیں کہ کسی عورت سے ناجائز تعلق میں کامیاب ہوں تو کہتے ہیں۔ہم نے قلعہ فتح کر لیا۔۴۔بد دیانت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ جو معمار ہیں۔وہ جان بوجھ کر عمارت ناقص بناتے ہیں پوچھو تو کہتے ہیں۔ہمارا کام کس طرح چلے اور پھر ہمیں کون بلائے۔حالانکہ ایسے لوگ ہمیشہ غریب رہتے ہیں۔غرض انسان جس راہ پر اپنے تئیں ڈال لے۔اسی کے موافق نتیجہ نکلتا ہے۔دیکھو۔حق کو نہ ماننے کا نتیجہ یہ نکلا ، سمجھ بھی اُلٹی ہو گئی اور حق کے بنیاد نہ رہے پھر بڑھتے بڑھتے سر کشی میں بہکتا رہتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۱۲۔ : یہاں تک کہ اگر فرشتے بھی اتریں۔موتیٰ کلام کریں تو بھی نہ مانیں۔بڑے بڑے بدکاروں کو بدی کرتے کرتے نیکی کا خیال اٹھتا ہے یا کسی وقت