حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 170
سے بڑھ کر ایک اور نظارۂ قدرت کی طرف متوجّہ کرتا ہے۔: کے معنی ہیں اپنے محور پر گردش کرنا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۹۸،۹۹۔ : ایک ستارہ تو وہ ہے جس پر تمام جہازرانی موقوف ہے یعنی قطب۔قطب نما ایسی چیز ہے کہ آجکل تمام جہاز اسی پر چلتے ہیں۔عرب دوسرے ستاروں سے بھی بہت کام لیتے اور راہ پاتےخدا تعالیٰ یہ تمام نظارے اپنی قدرت کے بیان فرما کر سمجھاتا ہے کہ بڑا ہی نادان ہے جو مسئلہ نبوّت کا منکر ہے۔ان معمولی پڑاؤں اور منزلوں کیلئے تو اس نے راہنمائی کا اتنا بڑا سامان مہیّا کیا اور اس کی سنّت ہو کہ ظلمت کے بعد روشنی عطا کرے لیکن اپنے حضور پہنچنے کیلئے کوئی شمس کوئی قمر کوئی ستارہ نہ ہو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔اے منکرانِ نبوّت جب تم فعلِ الہٰی سے نفع اٹھا رہے ہو تو قولِ الہٰی سے بھی اٹھاؤ۔میں تو دیکھتا ہوں کہ جب سے ریل۔تار۔موٹر وغیرہ بنے ہیں اس وقت سے خدا تک پہنچنے کی راہیں بھی سہل ہو گئی ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ صحابہؓ کے لئے بہت سخت مجاہدہ تھا یہاں تک کہ جان بھی دینا پڑتی تھی۔مگر اب تو یہ باتیں نہیں۔مُسْتَقَڑٌّ: جہاں ٹھہرنا ہے یعنی بہشت۔: جہاں بطور امانت عارضی قیام تھا۔ماں کا پیٹ۔پھر ماں کی گود۔پھر گھر کا