حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 171

صحن۔پھر وطن سب عارضی ہی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۰۰۔ : جیسے آسمان پر سے پانی اُترتا ہے۔اسی طرح وحی کا نز ول بھی ہے۔ادھر قرآن۔رسول کریمؐ کی پاک تعلیم ہے۔اور ادھر دِلوں کی سر زمین اس آبِ حیات کو قبول کرنے کو تیار ہے۔جیسے پانی اُترتا ہے تو ہر قسم کی روئیدگی اُگتی ہے اور ایک نیا لباس عطا کوتا ہے۔اسی طرح وحی الہٰی کے وقت ہر چیز میں نشو و نما آتا ہے۔اور زمانہ میں ایک تبدیلی پیدا ہونی چاہتی ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔پھر اس پانی سے قسم قسم کے درخت اور طرح طرح کے میوے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح وحی الہٰی سے ہر قسم کے علم و ہنر و تہذیب میں ترقی ہوتی ہے۔لیکن جیسا کہ ایک دانہ کے بیجنے کے وقت ایک نادان کہہ سکتا ہے کہ اوہو یہ تو مٹی میں مل گیا۔اسی طرح اس رسول کی قوم پہلے حقیر و ادنیٰ سی معلوم ہوتی ہے مگر وہ فَالِق الحبّ والنَّوٰی اس کو ادنیٰ سے اعلیٰ۔بے برکت سے بابرکت۔ناچیز سے چیز بنا دیتا ہے۔لوگ خدا کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں مگر میں تو دیکھتا ہوں۔اس نے ایک وقت میں ایک بے جان لکڑی سے جو چند پیسوں کی ہو گی خدا کہلانے والوں کا تختہ الٹ دیا ( موسٰی کا عصا) ہمارے حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے۔کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے۔کسی کو خوشی ہے کہ میرے اولاد بہت ہے اور کسی کو خوشی ہے کہ میرا جتّھا بہت ہے۔پَر میں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادرِ مطلق ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء)