حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 158
دشمن حملہ آور ہو۔ہوائیں ایسی آویں جن سے لوگ پہاڑوں کے نیچے دب کر مر جائیں۔: اس کے بھی تین ہی معنے ہیں۔زلزلوں سے زمین پھٹ جائے۔خسف ہو جائے۔اپنے نوکروں کے ہاتھوں سے ہلاک ہو جاوی۔جن کو ذّلیل سمجھا ہوا ہے۔وہی تسلّط پا جاویں۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے دُعا فرمائی کہ الہٰی میری قوم کو بیرونی دشمن سے بچا کہ اس کا استیصال نہ کردے۔حدیث میں ہے کہ پروردگار نے فرمایا۔میں نے قبول کی۔پھر عرض کیا کہ خانہ جنگیوں سے ان کا استیصال نہ ہو۔یہ دُعا بھی قبول ہوئی۔پھر باقی رہ گیایُّذِیْق ۔چونکہ یہ نتیجہ تھا قرآنی نافرمانی کا(المائدہ:۱۵) اس لئے یہ برقرار رہا۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ غیروں سے تم نے لڑائی کی کہ انہوں نے مسیحؑ کو زندہ کہہ کر قرآن کو چھوڑا۔گویا کے مصداق ہوئے۔مگر تم لوگ آپس میں لڑائی کرو تو اِنَّﷲہی پڑھنا چاہیئے۔اس میں پیشگوئی بھی تھی۔یہ تمام عذاب اہل مکّہ پر آئے۔باہر سے نبی کریمؐ نے حملہ کیا کیا خود اپنے ہاتھوں سے مُشرک قتل ہوئے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۶۷،۶۸۔ اور تیری قوم نے اُسے جھٹلایا حالانکہ یہ حق ہے تو کہہ دے اے محمدؐ میں تم پر وکیل نہیں ہوں ہر ایک خبر کیلئے ایک وقت مقرّر ہے۔پس عنقرب تم جان لو گے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۳۱) اور اس کو جھوٹ بنایا تیری قوم نے اور یہ تحقیق ہے تُو کہہ کہ میں نہیں تم پر داروغہ۔ہر چیز کا ایک وقت ٹھہر رہا اور آگے جان لو گے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۹۹) : اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آیا۔مالیر کوٹلہ میں شیعہ بہت ہیں۔ساڈھورہ سے ایک اشتہار آیا کہ کوئی سُنّی ابوبکر کا ایمان ثابت کر دے۔ایک حدیث مسلمہ اہلِ سنّت میں ہے۔کہ عائشہؓ نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے پوچھا کہ آپؐ کو بڑی تکلیف کس سے پہنچی؟ تو آپؐ نے فرمایا تیری قوم سے۔اب قوم کسی آدمی کے باپ۔داد۔تائے ہی ہوتے ہیں۔اس لئے ثابت ہوا کہ ابوبکرؓ سے آپؐ کو بڑی تکلیف پہنچی(نعوذ باﷲ) میں نے کہا کے معنے بھی حل ہو گئے۔آخر