حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 144
ہمارا تمہار مقدّمہ ہے۔پچھلی کتابوں میں شہادت موجود ہے۔تم دیکھ لو کہ مکذّبینِ رُسل کا انجام کیا ہوا؟ تازہ شہادت چاہتے ہو تو اپنے اور میرے اتباع کو دیکھ لو۔بوعلی سینا ایک طبیب تھا۔امام غزالی و امام رازی اچھی عربی لکھنے والے ہیں۔مگر یہ بھی ان سے کم نہیں۔ایک دن اس نے عمدہ تقریر کی۔ایک اُلّو کا پٹھا اسکا شاگرد بیٹھا تھا۔اُس نے کہا آپ نبوّت کا دعوٰی کرتے تو آپ کو زیبا تھا۔اس وقت ابنِ سینا خاموش ہو رہا۔ایک دن سردی تھی۔ٹھنڈی ہوا اور یخ بستہ پانی موجود۔اسی شاگرد سے کہا۔ذرا کپڑے اتار کر اس میں ہو آؤ۔وہ کہنے لگا۔خیر ہے کیا آپ مجنون تو نہیں ہو گئے؟ کہا۔کیا اسی ہمّت پر مجھے پیغمبر بناتا تھا؟ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم اپنے صحابہؓ کو گھمسانوں میں جانے کا جو حکم دیتے تھے۔کیا وہ یہی جواب دیتے تھے؟ غرض یہاں اتباع کو مقابلہ میں پیش کیا گیا۔: اورمیرا دعوٰی تو یہ ہے کہ قرآن مجھ پر وحی ہوا ہے۔مگر یہ صرف وحی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ خطرناک بات ہے کہ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ۔جو اس وحی کے خلاف کرے گا وہ یقینًا عذاب میں گرفتار ہو گا اور نہ صرف تم بلکہمَنْ بَلَغَ جن لوگوں تک یہ قرآن پہنچے گا اگر وہ اس کی ہدایات پر کار بند نہ ہوں گے تو خوار ہوں گے۔تباہ ہوں گے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍اگست ۱۹۰۹ء) : یہ چھٹی دلیل ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۵۲) ۲۱۔ : یعنی فقراء ( جن کے سینوں میں کتاب ہوتی ہے) علماء ( جن