حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 137
کرتے ہیں کہ انعاماتِ الہٰی کو انعام ہی نہیں سمجھتے۔ایک عورت مجھ سے کہنے لگی۔خدا نے جو کچھ مجھے دیا تھا سب کچھ لے لیا۔مَیں نے کہا۔کیا تمہاری آنکھیں نہیں۔کان نہیں۔ناک نہیں۔ہاتھ نہیں۔پاؤں نہیں۔اس پر وہ بہت شرمندہ ہوئی۔اس رکوع میں ایک نبی سے باز پُرس کا ذکر ہے۔جسے خدا بنایا گیا۔: مریم کو بھی خدا کی ماں کہتے ہیں اور رومن کیتھولک اس کی تصویر کو سجدہ کرتے ہیں لارڈرِپن نے اپنی جیب سے پندرہ تصویریں پیتل کی دکھائی تھیں۔مہاراج۱؎ نے مجھے کہا یہ تو ہمارے ہی بھائی ہیں آپ ان کو اہل کتاب بنائے پھرتے ہیں۔: میری باتیں۔: تیری باتیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۱۸: : انبیاء توحید ذاتی پر نہیں بلکہ صفاتی پر زور دیتے ہیں کیونکہ اس کے متعلق قوموں میں غلط فہمیاں ہیں۔شرک کا مسئلہ باریک ہے۔ایک طرف خدا کا حکم ایک طرف نفس کی تحریک۔اب جو نفس کا کہا مانتا ہے وہ بھی شرک میں گرفتار ۱؎ مہاراجہ جمّوں و کشمیر۔مرتّب ہے۔اسی واسطے جھوٹ بولنے والے۔زانی چور۔بد معاملہ۔سُست۔حرام خور۔سب مُشرک ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍اگست ۱۹۰۹ء) : جان کو قبض کر لیا۔اور جب کہے گا اﷲ۔اے عیسٰی مریم کے بیٹے کیا تُو نے لوگوں کو کہا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اﷲ کے سوا معبود ٹھہرالو۔وہ بولا۔تُو پاک ہے۔مجھ کو سزاوار نہیں ہے کہ کہوں وہ بات جو مجھے پہنچتی نہیں۔اگر میں نے یہ کہا ہو گا۔تو تجھے معلوم ہو گا۔تُو جانتا ہے۔جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی