حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 134
: فرمائے گا بروز قیامت۔: کلامِ پاک ہے۔: اَیْ حَلِیْمًا یعنی عقل من ہو کر۔: معلوم ہوا کہ خدا کی کتاب کا علم بھی الہٰی فضل ہی سے آتا ہے۔: پکّی باتیں۔: اندازہ کرتا تھا۔: یعنی ایسی سعید رُوحیں جو ہر قالب میں گیلی مٹّی کی طرح ڈھل جانے والی ہوں۔: خدا کے حضور پہنچ جاوے۔بلند پرواز انسان۔: تُو خدا کا کلام اس میں پھونکے گا۔: بری کرتا تھا۔وہ لوگ مبروص اور اندھے کو ناپاک سمجھتے تھے۔: مادر زاد اندھایا جسے شب کوری کا مرض ہو۔: یعنی شریر اور کفر میں مرے لوگ۔: یقینًا معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل پھانسی پر قادر نہیں ہو سکے۔: مَالَا اَصْلَ لَہٗجس کی حقیقت وہ نہ ہو جو بظاہر معلوم ہو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء نیز تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹) جب تُو مٹی سے پرندہ کی سی ایک چیز بناتا۔میرے اذن سے اور اس میں پھونک مارتا پھر وہ اُڑنے والا ہو جاتا میرے اذن سے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۷۵) ۱۱۲۔ : نبی کریمؐ کو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ