حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 127

قوانیں و سلاطین یہ معزّز و مکرم ہو گا۔: جب تک کعبہ ہے اُس وقت تک دُنیا والے قائم ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۱) ۹۹۔ : اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ صحیح واقعہ سناتا ہوں۔یہاں ایک شخص آیا۔کشمیر میں ملازم تھا۔حضرت صاحب سے بیعت کی۔بیعت کر کے کہنے لگا۔جو اَب مَیں گناہ کروں تو خدا کی جو مرضی ہے سزا دے لے۔وہ تو یہ کہہ کے چلا گیا۔مگر میرا دل کانپ اُٹھا۔آخر ایک معمولی حِیلہ سے اس کے پاس تین ہزار جمع ہو گیا۔پھر ایک شخص کی گواہی دیتے ہوئے کہنے لگا۔کہ یہ رشوت لیتا ہے۔میں خود اپنی معرفت اس کو دلاتا رہا ہوں۔جس پر ایک مقدّمہ ہو گیا۔یہاں اس نے بڑے عجز و الحاح سے دعا کیلئے لکھا۔حضرت صاحب نے فرمایا دُعا کیلئے دل توجّہ نہیں کرتا۔ابتلاء معلوم ہوتا ہے۔یہاں تک کہ وہ تین ہزار بھی مقدمہ ہی میں خرچ ہو گیا۔اور اخیر قید کا حکم ہوا۔اس وقت کہنے لگا۔معلوم ہوتا ہے۔خدا ہی کوئی نہیں۔نہ کوئی دُعا ہے نہ فقیر۔نماز بھی چھوڑ دی۔دہریہ ہو گیا۔اس وقت اُسے رات کو خواب آیا کہ تُو تو کہتا تھا کہ اب کوئی گناہ کروں تو خدا جو چاہے سزا دے لے۔مگر اب ایک معمولی سزا ہی سے خدا ہی سے منکر ہو بیٹھا۔اس وقت وہ اُٹھا۔اور بہت استغفار کی۔کلمۂ شہادت پڑھا۔نماز پڑھی۔اور اﷲ کی طرف متوجّہ ہوا۔کسی نے اسے مشورہ دیا کہ نظر ثانی کراؤ۔کہنے لگا نہیں۔اب تو خدا پر چھوڑ دیا ہے۔اس کے رشتہ دار نے نظر ثانی کرائی۔مدعی اتنے میں مر گیا۔عدالت نے فیصلہ دیا۔چند امور تنقیح طلب باقی ہیں۔مدعی مر چکا ہے اس لئے اسے رہا کر دیا جائے۔دیکھا و شدید العقاب بھی ہے۔مگر اگر کوئی سچّے دل سے توبہ کرے تو  بھی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۰۲،۱۰۳۔