حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 125
:(المائدہ:۱۵) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۹۶۔ ظاہر و باطن کا تعلّق ضرور ہے۔اگر کسی کے دل میں خوشی ہو تو اس کا اثر اس کے چہرے پر ضرور پڑے گا۔اگر غم ہو گا تو بھی بُشرہ پر اس کا اثر ہویدار ہو گا۔اگر کسی کے دل میں محبّت ہو۔تو ۱؎ جؤا۔مرتب جب وہ سامنے آئیگا۔ضرور چہرہ کی کیفیت بدلے گی۔کسی سے دشمنی ہو گی تو بھی۔جھُوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم فلاں شخص سے محبّت رکھتے ہیں اور پھر اسکے پاس تک نہیں بیٹھتے! انبیاء نے اس حقیقت کو خوب سمجھا ہے۔نمازوں میں دیکھئے دل میں اگر عجز و نیاز ہے تو اس کے اظہار کو ظاہر جسم پر بھی ایک رکھا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی صفات پر غور کر کر کے انسان جھُک جاتا ہے اور پھر اس کی عظمت کا مطالعہ کرتے کرتے متائثر ہو کر سجدہ میں گر پڑتا ہے۔اسی طرح دیکھو جو شعائر اﷲ ہیں اﷲ ان کی عظمت و جبروت کو قائم رکھانا چاہتا ہے۔مکّہ ایک بے نظیر شہر ہے۔وہاں حضرت ہاجرہ نے بڑے صبر سے کام لیا اس وادیٔ غیر زرع میں خاوند سے الگ ہو کر رہیں۔وہیں صفا و مروہ جہاں بے تابانہ آپ گھومی تھیں۔اب وہاں اتنی بھیڑ ہے کہ جگہ نہیں ملتی۔وہ تو عورت تھی۔حضرت ابراہیمؑ کو دیکھو۔اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی (النجم:۳۸) کا سر ٹیفکیٹ پایا۔آپ نے خدا جانے کس اخلاص و جوش توحید کے ساتھ انیٹیں لا لا کر پھیرے دئے اور دیواریں بنائیں کہ اب جو جاتا ہے اس عظمت کا مطالعہ کرنے کیلئے طواف کرتا ہے۔پس ایسے مکّہ کی تعظیم و تکریم کے لئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! ہم تمہارے لئے امتحان رکھ کر انعام دینا چاہتے ہیں۔وہ یہ کہ وہاں شکار مت کرو۔بحالتِ احرام۔