حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 121 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 121

: سؔ دراصل صؔ ہی ہے۔یعنی وہ لوگ جو بزرگوں کے قصّے کہانیاں بیان کرتے رہتے ہیں۔اور ان کے اثر سے بعض نیک صفات باقی رہتی ہیں۔رُھْبَانًا: تارک الدُّنیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اگست ۱۹۰۹ء) ۸۴،۸۵،۸۶۔ رشک اور غبطہ بھی ایک نعمت ہے۔کسی کو علم آتا ہے اور وہ اس علم کو رات دن اﷲ تعالیٰ کیلئے بڑھاتا ہے کسی کے پاس مال ہے اور وہ اسے صبح و شام رضاء الہٰی میں خرچ کرتا ہے تو رسول کریمؐ نے فرمایا کہ اس کی حالت قابلِ غبطہ ہے۔اب دیکھو اﷲ جس بات کی تعریف کرے وہ کیوں مومن کیلئے قابلِ رشک نہ ہو۔اس رکوع میں عیسائی حبشیوں کا ذکر ہے کہ جب صحابہؓ ان کے پاس ہجرت کر کے گئے اور جعفرؓ نے قرآن سنایا تو ایسے روئے کہ گویا آنکھیں بہی جاتی تھیں۔تم لوگ جو مسلمان کہلاتے ہو۔اپنے دل میں سوچو کہ کیا تمہاری یہ حالت ہے۔ایک جگہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ قرآن شریف کے سُننے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور (الزمر: ۲۴)میں نے ایسے کئی نظارے دیکھے ہیں ایک امیر اپنے خادم پر نہایت سخت ناراض ہوا۔جوش غیظ و غضب میں