حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 122
خادم کو مارنے اُٹھا۔ایک پاؤں دہلیز کے باہر تھا اور ایک اندر کہ میں آ گیا۔میں نے پڑھااَلْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ (آل عمران : ۱۳۵) میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔اور دیر تک کھڑا رہا۔اس کا چہرہ زرد رہ گیا۔حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک امیر آیا۔اس نے اس بات کو بہت مکروہ سمجھا کہ ایک دس برس کا لڑکا بھی بیٹھا ہے۔کہ ایسی عالی شان بارگاہ میں لونڈوں کو کیا کام؟ اتفاق سے حضرت عمرؓ اس امیر کی کسی حرکت پر نارا ض ہوئے۔جلاّد کو بلایا۔وہی لڑکا پُکار اُٹھا۔اَلْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَپڑھا وَانعْربضْ عَنِ الْجَاھِلیْنَ (الاعراف: ۲۵۰) اور کہا ھٰذَا مِنَ الْجَاھبلِیْنَ۔حضرت عمرؓ کا چہرہ زرد ہو گیا اور خاموش رہ گئے۔اس وقت اس کے بھائی نے کہا۔دیکھا اسی لونڈے نے تمہیں بچایا جس کو تم حقیر سمجھتے تھے۔: انسان کو چاہیئے کہ باتیں سُنے اور شہادت حق دے اور صلحاء میں داخل ہونے کی تڑپ رکھے۔اب تو مسلمانوں کی محبّت قرآن سے یہ ہے کہ جھوٹی قسمیں کھانے کیلئے نکال لیا۔فال دیکھ لی۔کوئی عمل یا وظیفہ پڑھ لیا۔کوئی ترکیب یا صیغہ دیکھ لیا۔عمل مقصود نہیں رہا۔: ہر محسن کیلئے یہی جزاء ہے۔یہ مت سمجھو کہ انعامات اگلوں کے لئے ہی تھے اور تم محروم ہو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۸۸،۸۹۔ : اور کھاؤ اس میں سے جو دیا تم کو خدا نے حلال اور ستھرا اور خدا سے ڈرو جس پر تمہارا یقین ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۵۹) : انسان بدکاری میں ترقی کر خدا کے انعاموں سے محروم رہ جاتے ہیں۔: ہر ایک چیز کیلئے ایک حد مقرّر ہے حتّٰی کہ نیکی کی بھی۔چار رکعت نماز مقرّر ہے