حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 116 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 116

تھی۔جس نے آپؐ کو اس امر پر آمادہ کر دیا کہ خواہ مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ پڑیں۔لیکن امرِ الہٰی کے پہنچانے میں آپ تساہل نہ فرماویں گے۔قرآن شریف سے ہی اسکا پتہ چلتا ہے۔آپ کو حکم ہوا تھا۔بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ۔جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسے مخلوقِ الہٰی کو پہنچاوے اورفَاصْدَعْ بَمَاتُؤْمَرُ (الحجر:۹۵) جو تجھے حکم دیا جاتا ہے اس کو کھول کھول کر سُنا دے۔اس پاک حکم کی تعمیل آپؐ کا مقصودِ خاطر تھا۔اور اس کیلئے آپؐ ہر ایک آفت اور مصیبت کو ہزار جان برداشت کرنے کو آمادہ تھے۔پھر قرآن شریف کے تو تیس سپارے ہیں اور ان میں ہزاروں ہزار مضامین ہیں۔جن کو پہنچانا آپؐ کا ہی کام تھا۔اگر اﷲ تعالیٰ کی تائید شاملِ حال نہ ہو اور اس کی نصرت ساتھ نہ ہو تو پُشت شکن امور پیش آ جاتے ہیں۔اس زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ ایک توفّی کے امر کو پیش کرنے میں کس قدر دِقّتیں پیش آرہی ہیں اور کیا کیا منصوبے اور تجویزیں مخالف کی طرف سے آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔اور وہ شخص جو مسیح موعود کے نام سے آیا ہے اور اس پیغام کو پہنچانا چاہتا ہے وہ بھی بالمقابل اُن کی تکلیفوں اور اذّیتوں کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔وہ تھکتا اور ماندہ نہیں ہوتا۔اُس کا قدم آگے ہی آگے پڑتا اور اس مضمون کے پہنچانے میں کوئی سُستی نہیں کرتا۔کوئی ذکر ہو۔اندر ہو یا باہر ہو۔آخر اس کے کلام میں یہ بحث ضرور آ جاتی ہے۔پھر مخالفوں کی کوششیں اور ادھر اس کی مساعی جمیلہ اس پر دعائیں کرتا ہے۔غرض کیا ہے؟اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ (آل عمران:۵۶) کے حقیقی معنے لوگوں کے ذہن نشین ہو جائیں۔کیوں؟ اس موت سے خدا تعالیٰ کی زندگی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات۔اسلام کی زندگی اور قرآن کریم کی زندگی ثابت ہوتی ہے اور یہ قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خدمت ہے۔غرض قرآن شریف وہ پاک اور مجید کتاب ہے جس کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہؓ کو وہ محنت کرنی پڑی اور آج اس زمانہ کے امام اور خاتم الخلفاء کو وہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔(الحکم ۲۴؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲) ۷۰۔