حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 108

ہے۔پھر صحابہؓ کرام کو اپنے قلّت تعداد کی حالت میں اس قدر محنتوں سے مسلمان بنانے کے بعد پھر بھی کسی کا ارتداد دیکھنا پڑے تو کیا کچھ دُکھ پہنچنا چاہیئے تھا۔لیکن خدا تعالیٰ اس معاملہ میں مومنوں کیلئے ایک بشارت دیتا ہے۔کہ ایک مُرتد ہو تو میں تمہیں اس کے بدلے میں ایک قوم دوں گا۔اور وہ قوم بھی ایسی کہ مَیں اُن سے محبّت کروں گا اور وہ مجھ سے۔ایک دفعہ ایک لڑکے نے ( جس کی پرھائی پر میں نے ہزاروں روپیہ خرچ کیا تھا ) مجھے خط میں لکھا کہ میں ناپک مذہب اسلام کو چھوڑتا ہوں۔مجھے بہت دُکھ ہوتا اگر یہ آیت میرے ذہن میں نہ آ جاتی۔: دراصل تھوڑوں کو کہتے ہیں۔کیونکہ تھوڑے عاجز اہوتے ہیں اس لئے مطلب یہ ہے کہ نرم دل۔یہ آیت شیعہ کیلئے کاری حربہ ہے۔عرب میں بھی جب سلسلۂ ارتداد شروع ہوا تو جو قوم ان کے مقابلہ میں اٹھی جسے  کا سر ٹیفکیٹ مل چکا ہو۔وہ بالا تفاق حضرت ابوبکرؓ اور ان کے پَیرو تھے وہی کافروں پر غالب آئے۔وہ فی سبیل اﷲ جہاد کرتے رہے اور وہی کسی سے نہیں ڈرے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) ایک تارکِ اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔’’ ہمارے لئے تمہارا ارتداد بھی خوشی کا باعث ہے کیونکہ قرآن کریم میں ایسے ارتداد اور مُرتدوں کے بدلہ ہم کو وعدہ دیا گیا ۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۲۴۰) یعنی اگر تم میں سے کوئی لایک مُرتد ہو جاوے تواس کے بدلہ اﷲ تعالیٰ ایک بڑی قوم لائے گا۔جو اﷲ تعالیٰ سے محبّت کرنیوالی اور اﷲ تعالیٰ ان سے محبّت کرنیوالا ہو گا۔اس تارک اور اس کے اور مُرتد بھائیوں کے بدلہ ہمیں قوموں کی قومیں مسلمان اور نیک مسلمان جو محبوب الہٰی ہوں گے عطا کریگا اور ضرور عطا کرے گا فَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ۲۵۲) ۵۶۔  : کہ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہر وقت خدا کی جناب کے