حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 105 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 105

: پس تم لوگوں سے نہ ڈر کر بلکہ میرا ڈر رکھ کر اور دنیا کی آیت اﷲ کے سامنے مطلق پرواہ نہ کر کے مآ کو حَکَم بناؤ۔صاف معلوم ہو گا کہ محمد رسول اﷲ ہیں۔مگر تم نبی پر ایمان لانا تو کجا اس کی ایذارسانی اور قتل کی فکر میں ہو حالانکہ تورات ہی میں درج ہے کہ نفس کے بدلے نفس مارا جائے گا۔بلکہ آنکھ کے بدلے انکھ۔ان آیات میں بتایا ہے کہ تم تورات کے اَور احکام بھی چھوڑ چکے ہو۔نبی کی مخالفت میں۔تو یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں اپنا دین بڑا عزیز ہے ہم اپنے دین پر قائم ہیں مگر واقعات اسکے خلاف ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) : ہدایت اس لئے کہ اس میں نبی کریمؐ کی پیشگوئی ہے اور نور یہ کہ اس میں توحید بھی سکھائی ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۰) ۴۹۔     : سراپا حق۔بعض کتابیں بالکل باطل ہوتی ہیں۔بعض میں حق و باطل مِلا جُلا۔بعضوں میں حق زیادہ ہوتا ہے اور باطل کم۔مگر قرآن سراپا حق ہے۔