حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 89
حقائق الفرقان ۸۹ سُورَةُ الدَّهْرِ ابرار خنک چشم و خنک دل رہتے ہیں۔ یہی ان کا کا فوری پیالہ ہے جیسی حالت دنیا سے یہ لوگ ساتھ لے جاویں گے جَزَاء وَ فَاقًا۔ (النبا : ۲۷) کے طور پر ویسی ہی نعمت ان کو آخرت میں خداوند کریم عطا فرما دے گا۔ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ۔ دنیا میں ان ابرار کی یہ سیرت رہی کہ جس رشد و ہدایت کو کافوری ری ٹھنڈک کی طرح ان رح انہوں نے آپ حاصل کیا تھا۔ اس کی نہریں اور چشمے دور دراز ملکوں میں تبلیغی رنگ میں چیر چیر کر لے گئے ۔ چین میں لے گئے ۔ افریقہ میں لے گئے ۔ روم ، شام اور ملک ہندوستان تک پہنچایا۔ اسی طرح آخرت میں جَزَاء وَ فَاقًا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ہر قسم کی نعمتوں سے سیراب کیا۔ ہماری جماعت کی انجمنوں کو چاہیے کہ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا پر پوری توجہ اور جانفشانی سے مگر ٹھنڈے دل سے کوشش کریں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۸) انسانی جسمانی روح ایک قسم کی لطیف ہوا ہے جو انسان میں شریانی عروق اور انسانی پھیپھڑوں کے بن جانے اور قابل فعل ہونے کے وقت نفخ کی جاتی ہے۔ اس مطلب کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر غور کرو۔ یہ صادق کتاب حقیقت نفس الامری کی خبر دیتی ہے کہ انسان اسی نطفہ سے جو عناصر کا نتیجہ ہے خلق ہوتا ہے۔ اور پھر یہیں اسے سمیع و بصیر یعنی مدرک اور ذی العقل بنایا جاتا ہے۔ نہ یہ کہ پیچھے سے اپنے ساتھ کچھ لاتا ہے اور پرانے اعمال کا نتیجہ اس کے ساتھ چپٹا ہوتا ہے۔ جس وہم و فرض کا کوئی مشاہدہ کا ثبوت نہیں ۔ هَلْ آئی عَلَى الْإِنْسَانِ ۔۔۔۔۔۔۔ سَمِيعًا بَصِيرًا " ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۴) ہر آدمی غور کرے کہ یہ دنیا میں نہ تھا اور اس کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ضرور ایک وقت انسان پر ایسا ا یہ بھر پور بدلا ہے۔ ۲ے زمانہ میں سے ایک وقت بے شک انسان پر ایسا گزرا ہے کہ اس کا نام و نشان کچھ بھی نہ تھا۔ ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفہ سے پیدا کیا۔ ہم اس کا امتحان لیا چاہتے ہیں (اور اس امتحان کے لئے ) ہم نے اس کو سمیع و بصیر بنایا۔