حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 90

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الدَّهْرِ گزرا ہے کہ اس کو کوئی نہیں جانتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے عناصر پیدا کئے۔اگر وہ ہم کو پتھر بنا دیتا یا حیوانات میں ہی پیدا کرتا۔مگر کتا یا سور بنادیتا۔پھر اگر انسان ہی بنا تا پر چوہڑا یا چماروں میں پیدا کر دیتا۔پھر اگر وہ کسی ایسے گھر میں پیدا کر دیتا جہاں قرآن دانی کا چر چانہ ہوتا۔پھر اگر کسی اچھے گھر میں پیدا ہوتے۔پر جوانی میں مرجاتے تو آج تم کو قرآن سنانے کا کہاں موقع ملتا۔اس نے کیسے کیسے فضل کے فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا۔ہم نے اپنے فضل سے اس نطفہ کو جس میں ہزاروں چیزیں ملی ہوئی تھیں۔سننے والا اور دیکھنے والا بنادیا۔اب مسلمان کہتے ہیں کہ تجارت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔کبھی کہتے ہیں حکومت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔صرف سو برس کے اندر ہی اندر انہوں نے سب کچھ اپنا کھودیا۔شرک کا کوئی شعبہ نہیں جس میں مسلمان گرفتار نہیں۔نماز ، روزے ، اعمال صالحہ میں قرآن کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں نہایت ہی سست ہیں۔کوئی ملاں ہو اور وہ خوب شعر سنائے تو کہتے ہیں کہ فلاں مولوی نے خوب وعظ کیا۔کسی عورت نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں عورت ایک عرس میں گئی تھی وہ کہتی تھی کہ سبحان اللہ ہر طرف نور ہی نور برس رہا تھا۔میں نے کہا کہ وہ کیا تھا۔کہنے لگی کہ وہ کہتی تھی کہ اندر بھی باہر بھی مراسی ڈھولک بجارہے تھے اور خوب خوش الحانی سے گار ہے تھے۔ریل میں مجھ کو ایک کنچنی ملی۔میں نے اس سے کہا کہ تو کہاں گئی تھی۔کہا کہ سبحان اللہ فلاں حضرت کے یہاں گئی تھی۔انہوں نے مجھ کو دیکھتے ہی کہا کہ ہماری فقیر نی آگئی ہے اور اپنے خادم سے کہا کہ اس کو تین سو روپے دیدو میں تو ایک دم میں مالا مال ہوگئی۔مسلمانوں میں تکبر بڑھ گیا۔ستی ہے۔فضول خرچی ہے اور فضول کے ساتھ تکبر بھی از حد بڑھ گیا ہے۔اپنی قیمت بہت بڑھا رکھی ہے۔سمجھتے ہیں کہ ہم تو اس قدر تنخواہ کے لائق ہیں۔ہم نے تو انسان پر بڑے فضل کئے۔نَبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا یہاں تک کہ انسان کو دیکھنے والا اور سننے والا بنایا۔پھر قرآن کے ذریعہ سے اس پر ہدایت کی راہیں کھول دیں۔اِنَّا هَدَيْنَهُ