حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 82
۸۲ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ حقائق الفرقان و يَرَوْنَهُ سُبْحَانَهُ مِنْ فَوْقِهِمْ نَظَرَ الْعِيَانِ كَمَا يُرَى الْقَمَرَانِ هذَا تَوَاتُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ لَمْ يُنكره إِلَّا فَاسِدُ الْإِيمَانِ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۴ پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۷) ۲۵ - وَوُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ بَاسِرَةٌ - ترجمہ۔اور بہت سے منہ اس روز بہت ہی بگڑے ہوئے ہوں گے۔تفسیر - باسرة گھبرا سے بھرے ہوئے۔حواس باختہ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۴ پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۷) ۲۶ - تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ - ترجمہ۔یقین کریں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ڈالی جائے گی۔تفسیر۔فَاقِرَنا۔کمرتوڑ مصیبت۔فَقَرَاتُ الظھر۔ان ہڈیوں کے منکوں کو کہتے ہیں۔جو پشت کی وسط میں اوپر سے نیچے تک ہوتے ہیں۔فقر اور فقیر بھی اسی سے مشتق ہے۔اس کا حال مسکین سے بدتر ہوتا ہے۔اسی واسطے مصارف صدقات میں فقیر کو مسکین پر مقدم رکھا۔إِنَّمَا الصَّدَقُتُ لِلْفُقَرَاءِ وَ الْمَسْكِين - (التوبه : ۶۰) فقیر کی ایک صفت ایک جگہ باپسَ الْفَقِير (الحج: ۲۹) فرمایا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۷) سكتة ۲۷ تا ۳۱ - كَلاَ إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي - وَقِيلَ مَنْ رَاقِ وَ ظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إِلَى رَبَّكَ يَوْمَينِ الْمَسَاقُ - ترجمہ۔سن رکھو اصل یہ ہے کہ جب ( جان گلے اور ہنسلی تک آپہنچے گی۔اور تلاش کرے گی کہ کوئی جھاڑ پھوکنے والا ہو یا کون اس کو لے جانے والے ہیں رحمت کے یا عذاب کے فرشتے۔اور اس نے یقین کر لیا کہ یہ جدائی ہے۔اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے لگے گی (یعنی سخت گھبراہٹ ہو گی )۔آج تیرے رب کی طرف جانا ہے۔ایسا نہ ہو گا جس وقت سانس ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کون افسوس کرنے تفسیر۔لے اور وہ اللہ سبحانہ کو اپنے روبرو دیکھیں گے جیسے سورج اور چاند دیکھے جاتے ہیں۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر سے روایت کی گئی ہے۔فاسد ایمان والے کے سوا کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔سے صدقات تو فقیروں اور بے سامانوں کا حق ہے۔سے مصیبت زدہ محتاجوں کو۔