حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 82

حقائق الفرقان ۸۲ سُورَةُ الْقِيمَةِ وَ يَرَوْنَهُ سُبْحَانَهُ مِنْ فَوْقِهِمْ نَظَرَ الْعِيَانِ كَمَا يُرَى الْقَمَرَانِ هُذَا تَوَاتُرٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ لَمْ يُنْكِرُهُ إِلَّا فَاسِدُ الْإِيمَانِ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۷) ۲۵ - وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ - ترجمہ ترجمہ ۔ اور بہت سے منہ اس روز بہت ہی بگڑے ہوئے ہوں گے۔ تفسیر - باسرہ گھبرا اسے بھرے ہوئے ۔ حواس باختہ ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخہ ۴ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۷) ۔ ٢٦ - تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ - ترجمہ ۔ یقین کریں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ڈالی جائے گی ۔ پشت تفسیر - فَاقِرَةٌ - کمرتوڑ مصیبت ۔ فَقَرَاتُ الظُّهْرِ ۔ ان ہڈیوں کے منکوں کو کہتے ہیں ۔ جو! کی وسط میں اوپر سے ۔ اوپر سے نیچے تک ہوتے ہیں ۔ فقر اور فقیر بھی اسی سے مشتق ہے۔ اس کا حال مسکین سے بدتر ہوتا ہے۔ اسی واسطے مصارف صدقات میں فقیر کو مسکین پر مقدم رکھا ۔ إِنَّمَا الصَّدَقُتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِين - (التوبہ: ۶۰) فقیر کی ایک صفت ایک جگہ بَابِسَ الْفَقِير (الحج: ۲۹) فرمایا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ا ا نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۷) سكتة ۲۷ تا ۳۱ - كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ وَ ظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ - ترجمہ ۔ سن رکھو اصل یہ ہے کہ جب ( جان گلے اور ) ہنسلی تک آپہنچے گی۔ اور تلاش کرے گی کہ کوئی جھاڑ پھو کنے والا ہو یا کون اس کو لے جانے والے ہیں رحمت کے یا عذاب کے فرشتے ۔ اور اس نے یقین کر لیا کہ یہ جدائی ہے۔ اور پنڈلی سے پنڈلی لیٹنے لگے گی (یعنی سخت گھبراہٹ ہو گی )۔ آج تیرے رب کی طرف جانا ہے۔ تفسیر ۔ ایسا نہ ہو گا جس وقت سانس پنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کون افسوس کرنے لے اور وہ اللہ سبحانہ کو اپنے رو برو دیکھیں گے جیسے سورج اور چاند دیکھے جاتے ہیں ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر سے روایت کی گئی ہے۔ فاسد ایمان والے کے سواکسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ ۲۔ صدقات تو فقیروں اور بے سامانوں کا حق ہے۔ سے مصیبت زدہ محتاجوں کو ۔