حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 81
حقائق الفرقان ΔΙ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ ربط ماقبل کے لحاظ سے ایک معنے یہ ہیں کہ ” اے معذرت کنندہ۔عذر بیان کرنے میں تیز زبانی نہ کر اس صورت میں جمعہ میں کی ضمیر انسان کے اعمال کی طرف ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ پڑھنے والا جب قرآن شریف پڑھے تو جلدی نہ کرے۔لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن بتاتے ہیں۔یہ بات غلط ہے۔صرف عثمان کے لفظ کے ساتھ قافیہ ملایا ہے۔ہاں شائع کنندہ قرآن اگر کہیں تو کسی حد تک بجا ہے۔آپ کی خلافت کے زمانہ میں اسلام دور دور تک پھیل گیا تھا۔اس لئے آپ نے چند نخ نقل کرا کر مکہ، مدینہ ، شام ، بصرہ، کوفہ اور بلا دمیں بھجوا دیے تھے۔اور جمع تواللہ تعالی کی پسند کی ہوئی ترتیب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے ساتھ ہم تک پہنچایا گیا۔ہاں اس کا پڑھنا اور جمع کرنا ہم سب کے ذمہ ہے۔فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبع قرانَہ۔ہمارے ایک دوست حافظ محمد اسحاق صاحب کی الہامی دلیل ہے جو ان کو بذریعہ الہام کے بتلائی گئی کہ بدلیل اس آیت کے سورۃ الفاتحہ خلف امام سات آیتوں کے ہر ہر وقفے کے درمیان امام کے سکتے کے وقت مقتدی بھی اپنے منہ میں چپکے چپکے پڑھ لیا کرے۔حدیث شریف میں سورہ فاتحہ کو هِيَ السّبُعُ الْمَقَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمِ فرمایا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۴ پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۷) ۲۱- كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ - ترجمہ۔ایسی بات نہیں بلکہ تم تو دوست رکھتے ہو د نیا ہی کو ( جو جلد گزرنے والی ہے )۔العاجلة - جلدی کی بات جس کا نفع دمِ نقد موجود معلوم ہوتا ہے۔یعنی دنیا۔۲۴ - إلى رَبّهَا نَاظِرَةٌ - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۴ پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۷) ترجمہ۔اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔تفسیر۔جمہور اہل علم کے نزدیک اس آیت سے دیدار الہی بلا حجاب ثابت ہے۔حدیث شریف میں ہے۔إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ حِجَابٌ یہ بار بار دوہرائی جانے والی سات آیات ہیں اور قرآن عظیم۔۲۔جس طرح تم چودھویں کی رات کے چاند کو دیکھتے ہو اسی طرح تم اپنے رب کو بلا حجاب دیکھو گے۔