حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 78
حقائق الفرقان ZA سُوْرَةُ الْقِيمَةِ نظر آ تا ہے۔اس کا مالک میری قوم کا آدمی تھا اور وہ اتنا بڑا شخص تھا کہ ایک قسم کی سرخ چھتری جب وہ گھوڑے پر سوار ہو کر چلا کرتا تھا تو اس کے اوپر لگا کرتی تھی اور میں سیاہ بھی نہیں لگا سکتا۔اب اس کی بیوی میرے گھر میں برتن مانجھنے پر ملازمہ ہے۔یہ بھی سن لیجئے کہ میں اپنے اس تخت کو چھوڑ کر جو آپ کے سامنے پڑا ہوا ہے ہمیشہ اس کھڑکی میں بیٹھا کرتا ہوں۔مگر اس تخت کو چھوڑنے اور اس کھڑکی میں بیٹھنے کی حقیقت مجھے آج ہی معلوم ہوئی ہے۔پھر جب کچہری کا وقت ہو گیا۔میں اسی جوش میں کچہری گیا۔رئیس شہرا کیلا تھا۔میں نے وہی بات اسے کہی تو رئیس نے مجھے ایک قلعہ دکھلایا اور کہا کہ یہ اس شہر کے اصل مالک کا ہے۔جو اب کسی ذریعہ سے ہمارے قبضہ میں آ گیا ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ پہاڑ جو آپ کے سامنے موجود ہے۔اس کا نام دھارا نگر ہے۔اس پر اتنا بڑا شہر آباد تھا کہ ہمارے شہر کی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہ تھی یہ مجلس بھی میرے لئے ہر وقت نصیحت ہے۔اور جہاں ہم راج تلک لیتے ہیں وہاں تمام اردگرد کچے مکانات اصل مالکوں کے ہیں اور یہ تین ناصح ہر وقت نصیحت کے لئے میرے سامنے موجود رہتے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ خوب سمجھے۔جب خدا پکڑتا ہے تو پھر کوئی نہیں بچا سکتا۔یاد رکھو جیسے گناہ کرتے ہو۔ان کی سزا پانیوالے تمہاری آنکھ کے سامنے ہوتے ہیں۔پھر بھی تم نہیں سمجھتے۔ہمارے یہاں تمہارے جھگڑے فیصلہ نہیں پاتے۔کچھ لوگوں نے عذر کیا ہے۔اور کچھ ابھی باقی ہیں۔( بدر حصہ دوم کلام امیر ۲۸ /نومبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۸۵ تا۸۷) يَسْتَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيمَةِ - ترجمہ۔پوچھتا ہے کہ کب ہو گا روز قیامت۔تفسیر۔آیان کے لفظ میں بھی استعجاب اور استبعاد شدید کفار کی طرف سے بیان ہوا ہے۔یعنی کہاں ہوگی قیامت؟ ہوتی ہواتی کچھ نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۴ پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۷٬۲۹۶)