حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 79
حقائق الفرقان ۷۹ و سُوْرَةُ الْقِيمَةِ تا اا فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ - وَخَسَفَ الْقَمَرُ - وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَبِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ - ترجمہ۔تو جب آنکھیں پتھرا جائیں ( تمہاری آنکھیں متحیر ہوں گی)۔اور چاند گہن جائے۔ور ایک جگہ جمع کر دیئے جائیں سورج اور چاند۔آدمی بول اٹھے گا اس دن کہ اب کہاں بھاگ جاؤں۔تفسیر۔برقی بصر سے مراد تحیر و فزع ہے۔جو انسان مصیبت کے وقت آنکھیں پھاڑ دیتا ہے مصیبت کا وقت آئے تو ساری تدبیریں الٹ پڑتی ہیں۔عقل ہوتے ہوئے عقل کام نہیں دیتی گویا کہ نور فراست کو بھی گرہن لگ جاتا ہے۔گرہن کی اصل بھی اقتران شمس و قمر ہے۔یعنی ایک کا وجود دوسرے کے بالمقابل حائل ہو جاتا ہے جونور کے ہوتے ہوئے نور نظر نہیں آتا۔یوم بدرظاہری طور پر بھی بجلی کوندی ، مینہ برسا ، تدبیریں کفار کی ان پر الٹ پڑیں۔ايْنَ الْمَفَر۔کہنے سے بھی کام نہ چلا۔قرآن کریم چونکہ ذوالمعارف ہے۔لَا تَنْقَضِيَ عَجَائِبُهُ اس کی شان حدیث شریف میں بیان ہوئی ہے۔اس لئے یہ پیشینگوئی اجتماع شمس و قمر کی گرہن کے ساتھ ہمارے اس زمانہ میں بھی مطابق حدیث دار قطنی جس میں لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ ہے۔رمضان کے مہینہ میں ۱۸۹۴ء میں بڑی شان و شوکت سے مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صدق دعوی کی علامت میں پوری ہوئی۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر جس طرح بدر کے شکست خوردوں کو آتين المفر کہنا فائدہ نہ دیا اسی طرح اس وقت کے مخالفوں کو باوجود حدیث شریف کی فعلی شہادت کے ضعف حدیث کو اپنا فرضی مفر قرار دینا پڑا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۴ پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۷) ١٤ يُنَبّوا الْإِنْسَانُ يَوْمَينِ بِمَا قَدَّمَ وَآخَرَ - ترجمہ۔انسان کو جتایا جائے گا اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔تفسیر۔متنبہ کیا جائے گا انسان اُس دن اُن کا موں سے جو اس نے نہ کرنے تھے اور کئے۔اور نیز متنبہ کیا جائے گا۔اُن کاموں سے جو اس نے کرنے تھے اور نہ کئے۔لے اس کے عجائبات کی انتہا نہیں۔سے اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین پیدا کیے یہ دونشان ظاہر نہیں ہوئے۔