حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 71
حقائق الفرقان اے سُوْرَةُ الْقِيمَةِ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ مَكِيَّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورۂ قیامہ کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے اسم مبارک سے جو رحمن اور رحیم ہے۔اس سورۃ شریف میں قیامت کے حق ہونے پر دلائل ہیں مکی سورتوں میں جو عظیم الشان پیشگوئیاں کی ہیں۔وہ دراصل قیامت کے دلائل ہیں۔کیونکہ وہ وعدے جو عالم آخرت سے متعلق ہیں۔اس دنیا میں بھی ایک رنگ اور صورت میں پورے ہوئے تا کہ عالم آخرت کے وعدوں پر بطور دلیل ٹھہریں قرآن کریم کا یہ مضبوط قاعدہ ہے اور اس کی در حقیقت یہ یگانہ صنعت ہے کہ اپنے ہر ایک دعوے کے ساتھ دلائل بھی رکھتا ہے مگر ثبوت تو حید اور اثبات الوہیت کے بعد بڑا بھاری مسئلہ جوسب مسائل کی روح رواں ہے۔معاد اور وعد و وعید معاد کا مسئلہ ہے دراصل آخرت کا یقین ہی تمام نیکیوں کا سچا محرک اور انکار آخرت تمام مفاسد کا باعث ہے دنیا کی تمام مذہبی کتا ہیں اس حقیقت کو بیان کرنے سے عاری ہیں یہ موقع نہیں کہ ان میں موازنہ کر کے دکھایا جاوے قرآن کریم نے مسئلہ لا الہ الا اللہ کے بعد سب سے زیادہ اسی مسئلہ کو مدنظر رکھا ہے اور اس سورۃ میں خصوصیت سے اس کا ذکر کیا ہے۔قرآن مجید کی قسموں کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ بدیہی امور کو نظریات کے ثبوت کے لئے پیش کیا ہے۔یہاں یوم القیامتہ ہی کو قیامت کے ثبوت میں پیش کیا۔گویا قیامت اور جزاوسزا کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے کہ انسان اس کا انکار ہی نہیں کر سکتا۔اس پر پہلی دلیل انسان کے نفس لوامہ کی ہے جب کسی شریف الطبع انسان سے کسی بدی کا صدور یا ارتکاب ہوتا ہے تو نفس لوامہ فوراً سے متنبہ اور آگاہ کرتا ہے اور صدور سے پہلے بھی دل میں ایک کھٹک اور خوف پیدا ہوتا ہے یہ ایک فطرتی امر ہے اس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔انسانی فطرت میں یہ خوف کیوں ہے؟ اس کی جڑ یہی ہے کہ وہ جزائے اعمال کا یقین کرتی ہے اور انسان پکار اُٹھتا ہے کہ جزائے اعمال کا مسئلہ حق ہے۔پس یہ فطرت