حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 60
حقائق الفرقان ٦٠ سُورَةُ الْمُدَّيْرِ اور ہم تک پہنچائی ہے۔ اس پر ہماری طرف سے بھی کوئی خاص رحمت بھیج اور اس کو مقام محمود تک پہنچا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق دیوے۔ والسلام الحکم جلد ۸ نمبر ۴۳ ۴۴ مورخہ ۱۷ و ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۹ ) يايُّهَا المُدير - مزمل اور مدثر دونوں لفظوں کے معنے قریب قریب ایک ہیں ۔ مدثر دثار سے مشتق ہے۔ دثار وہ کپڑا ہے جو شعار کے اوپر پہنا جاوے اور شعار وہ کپڑا ہے جو جسم سے ملا رہے۔ حدیث شریف میں ہے۔ الْأَنْصَارُ شِعَارُ وَ النَّاسُ دِنَارُ یہ سورہ شریف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ابتدائی دعوت کے وقت کی وحی ہے۔ اور اس کی قوت و شوکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور قرآن پاک کی حقانیت کی ایک زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ اس کا نزول ابتدائی وقت میں ہے جبکہ کوئی جتھا آپ کے ساتھ نہ تھا۔ قُمْ فَانْذِرُ ۔ سورۃ مزمل میں اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ اور تقرب الی اللہ حاصل کرنے کا حکم ہوا تھا اور اس سورہ شریفہ میں ارشاد و ہدایت خلق اللہ کا حکم فرمایا ہے پہلی شق مرتبہ کمال اور دوسری شق مرتبہ تکمیل کے متعلق ہے۔ اسی لئے مرتبہ کمال کو مرتبہ تکمیل پر مقدم رکھا۔ سورہ ماقبل میں قم الیل (مزمل : ۳) فرمایا تھا اور اس سورۃ میں قُم فَانْذِرُ فرمایا۔ قُم الیل اپنے کمال نفس کی تحصیل کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور قم فانند تکمیل خلق اللہ کے حاصل کرنے کی جانب ایماء کر رہا۔ رب کا لفظ تکمیل کو چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد ہے کہ اپنے رب کی عظمت بیان کر ۔ جس وقت آپ مبعوث ہوئے اس وقت مشرکین عرب رب النوع کی پرستش کرتے تھے اور اربابا مِن دُونِ اللہ کی عبادت ہوتی تھی۔ اس میں پیشگوئی ہے کہ اللہ اکبر کے نعروں کے بلند ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ - اپنا آپ پاک بناؤ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۴٬۲۹۳) لے انصار شعار (بدن سے لگا ہوا وہ کپڑا جو کپڑوں کے نیچے پہنتے ہیں ) اور دوسرے لوگ دثار (اوپر کا کپڑا جو کپڑوں پر لیا جاتا ہے ) ہیں ۔