حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 50
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْمُزَّمِّل بیشک وریب ہم نے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) تمہاری طرف بھیجا بڑا عظمت والا رسول نگران تم پر۔اور یہ رسول اس رسول کی مانند ہے جس کو ہم نے فرعون کے پاس بھیجا۔فَكَيْفَ تَتَّقُونَ اِنْ كَفَرْتُمْ۔منکرو! بتاؤ تو تم کیسے بچو گے عذاب سے اگر تم نے اس رسول کا انکار کیا۔کیا معنی۔اگر فرعون موسیٰ علیہ السلام کے انکار سے سزا یاب ہوا۔تو تم منکر و! کیونکر بچ سکتے ہو۔یہ آیت شریف کتاب استثناء کے ۱۸ باب ۱۸ کی طرف راہنمائی فرماتی ہے۔غرض اسی طرح کی بہت آیات قرآن کریم میں موجود ہیں اور اُن آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت، نبوت، راستی اور راست بازی پر پورا اور اعلیٰ درجہ کا یقین تھا۔اور اولڈ ٹیسٹمنٹ اور نیو ٹیسٹمنٹ کے ماننے والا بعد انصاف ہرگز انکار نہیں کرسکتا۔کیونکہ استثناء ۱۸ باب ۱۸ میں اور اعمال ۳ باب میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی موسیٰ علیہ السلام کی مانند آنیوالا ہے اور توریت میں یہ بھی لکھا ہے کہ جھوٹا نبی جو از راہ کذب و افتراء اپنے آپ کو موسیٰ علیہ السلام کی مانند کہے مارا جاوے گا۔حضور (فداه آبی و امی ) نبی عرب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند رسول ہونے کا دعویٰ فرمایا۔جیسا گزرا۔اور آیت شریف وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ: ۶۸) جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچالے گا پڑھ کر پہرہ اور حفاظت کو بھی دور کر دیا۔مدینہ کے یہود اور عیسائی قوم کو صاف صاف سنا دیا کہ میں قتل نہ کیا جاؤں گا۔اور اللہ کے فضل سے قتل سے بیچ رہے صلی اللہ علیہ وسلم۔عیسائی صاحبان ! اگر نبی عرب اس دعوی نبوت میں (اور نبوت کا بھی وہ دعوی میں گیا اَرْسَلْنَا إلى فِرْعَوْنَ رَسُولاً فرما کر استثناء ۱۵ باب ۱۸ اور اعمال ۳ باب والا دعویٰ ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ نبی عربہ قتل نہیں کئے گئے )۔کا ذب ہیں (معاذ اللہ ) تو توریت کتاب مقدس نہیں بلکہ بالکل غلط اور کذب ہے کیونکہ کتاب استثناء کے ۱۸ باب ۱۸ میں لکھا ہے۔جھوٹا نبی مارا جاوے گا۔لاکن توریت شریف اگر الہام الہی سے ہے اور سچ تو ہمارے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول اور فی نفس الأمر استثناء ۱۸ باب والے رسول ہیں۔