حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 45
حقائق الفرقان ۴۵ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّل دین عیسوی کے حق میں۔نویں امر کی نسبت قرآن فرماتا ہے۔وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَ أَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاعْتَبِرُوا يأولِي الْأَبْصَارِ (الحشر : ٣) تورات میں بنی اسرائیل کوحکم تھا کہ سچے نبی سے ڈریں لیکن اُن لوگوں نے کفار مکہ کی طرح مبئی برحق کی مخالفت کی۔وعید الہی سے نڈر ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی نضیر ( بنی اسرائیل ) ویران اور تباہ ہو کر مدینہ سے نکل گئے۔بعض عیسائی کہتے ہیں کہ یہ بشارت مسیح کے حق میں ہے۔پر یہ دعوئی ان کا صحیح نہیں کیونکہ مسیح اور موسی کے حالات میں کسی قسم کی مماثلت جو پشین گوئی میں مندرج ہے۔ہرگز نہیں پائی جاتی۔وجہ اول یہ ہے کہ مسیح صاحب شریعت نہ تھے۔بلکہ شریعت موسوی کے پیرو تھے چنانچہ اُن کے بپتسمہ لینے ، ختنہ کرانے، یروشلم میں آنے سے ظاہر ہے۔دوم۔مسیح نے خود بھی تو دعوی نہیں کیا کہ بشارت مثلیت میرے حق میں ہے۔اور نہ ان کے حواریوں نے اس بشارت کو اُن کی طرف منسوب کیا۔بلکہ اعمال باب ۳۔۱۹ سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح اس کا مصداق نہیں۔پس تو بہ کرو اور متوجہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تا کہ خداوند کے حضور سے تازگی بخش ایام آویں اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے۔جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے لئے رہے اُس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میرے مانند اٹھائے گا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے۔اس کی سب سنو۔اور ایسا ہوگا کہ ہر نفس جو اُس نبی کی نہ سنے۔وہ قوم سے نیست کیا لے اور ڈالی اُن کے دلوں دھاک۔اجاڑ نے لگے اپنے گھر اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔سو دہشت مانواے آنکھ والو۔