حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 539
حقائق الفرقان ۵۳۹ سُورَةُ النَّاسِ حاکم قوت عدل انصاف، رحم، شفقت، غور وفکر سے کام نہیں لیتا تو اس کی فطرت کو ایک ایسی عظیم الشان طاقت کی طرف جھکنا پڑتا ہے جو سب حکام کے حاکم اور سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس کے حضور گڑ گڑاتا ہے کہ میرے دشمنوں اور میرے ظالم حاکموں کا تو انصاف کر اور میرے مطالب و مقاصد میں تو میرا انصاف فرما۔اس بادشاہ عظیم الشان کا نام مَلِكِ النَّاس ہے۔نیز خودانسان کے لئے اگر چہ اکثر اوقات ایسے بادشاہ ہوتے ہیں جو اس کو جرائم کے ارتکاب اور امن کی خلاف ورزی پر سزا دیتے ہیں۔مگر بعض جگہ اور بعض موقعوں پر یا تو حکام و بادشاہ موجود ہی نہیں ہوتے جیسے بعض مہذب بلاد میں بھی بعض وقت ایسا معاملہ پیش آ جاتا ہے اور بعض مکانات اور میدانوں ، پہاڑوں میں ایسا اتفاق ہوتا ہے اور غیر مہذب بلاد میں تو اکثر ہی ایسے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔نیز ارتکاب جرم کے وقت اگر دنیوی حکام اور ناظم اگر چہ اپنے قوانین کی رُو سے انسان کی اخلاقی حالت اور انسان کی جسمانی حالت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔۔۔۔۔مگر انسان کے ان اندرونی جوشوں پر جس کے باعث کوئی انسان جرم کا ارتکاب کرتا ہے ایک ایسی زبردست طاقت کا اعتقاد انسان کی اخلاقی حالت کی اصلاح کے لئے ضروری ہے جس کی نگرانی پر یقین انسان یہاں تک بڑھا ہوا ہو کہ وہ انسان کے موجودہ یا آئندہ ارادوں کا علم رکھتا ہے اور یہ بھی بداخلاق کو سزا دیتا ہے۔اس کا نام اس سورہ شریف میں ملک الناس ہے۔کیا معنے؟ وہ بادشاہ جو انسان کے قویٰ علمیہ اور عملیہ اور انسانی علم وعمل اور انسانی کرم اندر یوں بلکہ گیان اندریوں پر حکمران ہے۔پھر جسمانی اخلاقی دونوں حالتوں کی تکمیل کے بعد انسان کی روحانی حالت زور پکڑتی ہے اور ظاہر ہے کہ جب انسان کا جسم کمال پر پہنچا اور ہر قسم کے تکالیف سے صحیح و تندرست ہوا تو انسان کو اخلاق فاضلہ کی ضرورت ہے مگر جب جسم و اخلاق دونوں کمال کو پہنچ جاویں تو اب اس کو ابدی اور لازوال آرام کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔اگر بقاء کی خواہش انسان کی فطرت و جبلت میں نہ ہوتی تو علم طب کی یہ ترقی تم نہ دیکھتے جو آج نظر آتی ہے اور مذہب کی تحقیق پر کوئی جلسہ نہ ہوتا۔نیکی اور نیک جلسہ کے اصول منضبط نہ ہوتے۔روح کی کامل محبت اور پورا پیار اور پوری چیز جس میں روح کو کامل طمانیت ہے اس کا نام ہے اسلام میں اللہ۔