حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 533 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 533

حقائق الفرقان ۵۳۳ سُورَةُ النَّاسِ کمزوری اور اپنے ضعف کے سبب غلطی کر بیٹھتا ہے اور اپنے بادشاہ سے معافی کا طلبگار ہوتا ہے ایسے شخص کا نفس لوامہ ہے وہ غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن اس غلطی پر راضی نہیں رہتا بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے اور غمگین ہوتا ہے اور افسوس کرتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کام کیا اور پھر تو بہ کرتا ہے۔اور ہر دفعہ اس کی تو بہ سچے دل کے ساتھ ہوتی ہے اور تو بہ کے وقت وہ کبھی وہ ہم نہیں رکھتا کہ دوبارہ یہ کام کر یگا اسی واسطے خدا تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے۔اور اس کی تو بہ کو قبول کرتا ہے اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر درجہ والے وہ لوگ ہیں جو ہر طرح سے تمام گناہوں کو چھوڑ چکے ہیں اور ان کے نفسانی جذبات ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔اور اب کوئی بدی ان کو دکھ نہیں دیتی بلکہ وہ آرام اور اطمینان کے ساتھ اپنے خدا کی بندگی میں مصروف ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرا چکے ہیں اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک ان کے دل میں باقی نہیں رہا اور انہوں نے اس واحد خدا کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضاء وقدر کے امور کو بدل و جان قبول کر لیا ہے اور نہایت نیک نیتی اور تذلل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانون اور تقدیروں کو بارادت تمام سر پر اٹھا لیا۔اور نیز وہ تمام صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء پہچاننے کے ایک قومی رہبر ہیں۔بخوبی معلوم کر لیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو نفسِ مطمئنہ رکھتے ہیں اور بسبب اس کے ان کے افعال، اقوال، حرکات، خیالات، عبادات وغیرہ میں ان کا مقصود محبوب اور معبود صرف اللہ ہی ہے جو کہ الہ الناس ہے۔انسان کے ان ہرسہ درجات اور حالات کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ان ہرسہ حالات کو صوفیاء نے اپنی تجربہ کردہ باتوں کے ذکر کے ساتھ عجیب عجیب پیرایوں میں بیان کیا ہے۔چنانچہ حافظ شیراز نے نفس لوامہ کی مشکلات پر نگاہ کر کے اس مضمون کو اس شعر میں ادا کیا ہے۔