حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 530 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 530

حقائق الفرقان ۵۳۰ سُورَةُ النَّاسِ مرزا صاحب سے میں نے بارہا سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے ہیں کہ اس قدر فتنہ کا مٹانا ظاہری اسباب کے ذریعہ سے نہیں ہوسکتا۔ہمارا بھروسہ صرف ان دعاؤں پر ہے جو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور میں کرتے ہیں۔خداوند تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنے گا اور وہ خود ہی ایسے سامان مہیا کریگا کہ کفر ذلیل ہو جائے گا اور اسلام کے واسطے غلبہ اور عزت کے دن آجائیں گے۔لطیفہ کسی نے کہا ہے کہ قرآن شریف کا ابتدا حرف ب سے ہوا ہے۔اور آخر حرف س کے ساتھ ہوا ہے۔یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن شریف انسان کے واسطے بس ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ (الانعام: ۳۹) اس کتاب میں کسی شئے کی کمی نہیں رہی۔اس مضمون کو کسی نے فارسی میں اس طرح ادا کیا ہے۔اوّل و آخر قرآن زچه با آمد و سین یعنی اندر ره دین رہبر تو قرآن بس لے لطیفہ: فلسفی کہتا ہے کہ اس سورہ شریف میں سب سے پہلے جو لفظ ناس آیا ہے۔اس سے مراد اطفال ہیں اور ناس ثانی سے مراد نو جوان لوگ ہیں۔اور ثالث سے مراد بوڑھے ہیں۔اور چہارم سے مراد صالحین ہیں اور پنجم سے مراد مفسدین ہیں۔کیا معنی؟ کہہ میں اس خدا کے حضور پناہ گزین ہوتا ہوں جورب الناس ہے ، چھوٹے ناتواں بچوں کے واسطے بھی تمام سامانِ پرورش کیا ہے۔اور ملک الناس ہے۔نوجوان جو شیلے لوگ سب اس کے قابو میں ہیں، اله الناس ہے۔جب آدمی بڑا ہوتا ہے۔اور چالیس سال سے زیادہ عمر پاتا ہے ، تب اس کے عقائد اور معرفت کمال کو پہنچتے ہیں اور عادتیں نیکی پر پختہ ہو جاتی ہیں۔اور اپنے خدا کی عبادت میں پکا ہو جاتا ہے، ایسے لوگوں کا معبود وہی خدا ہے اس خدا کے حضور میں میں خناس کے وساوس کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔جو يُوسُوسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ( الناس : ٦) نیک لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال دیتا ہے۔مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔وہ خناس کچھ جن ہیں اور کچھ مفسد انسان ہیں۔ے قرآن کریم کے شروع سے لے کر آخر تک جو بھی ”ب“ یاسین آئی ہے بس دونوں جہانوں میں ہمارے لئے قرآن ہی رہنما ہے۔