حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 521
حقائق الفرقان ۵۲۱ سُوْرَةُ الْفَلَقِ دہشت کو دُور کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں صبح کا طلوع ہونا آغاز فرحت وسرور کی مثال ہے کہ جس طرح آدمی تمام رات طلوع فجر کا انتظار کرتا ہے۔اسی طرح خائف و عائذ ، نجاح و فلاح کے طلوع صبح کا انتظار کرتے ہیں۔بہر تقدیر خدا تعالیٰ کے حضور پناہ مانگنی چاہیے۔تمام مخلوق کی برائی سے۔موذی آدمی۔جن، درندے ، وحشی جانور ، سانپ بچھو وغیرہ سے۔۔کعب بن احبار فرماتے ہیں کہ دوزخ میں ایک لق و دق جنگل ہے اس کا نام فلق ہے۔جب وہ کھولا جاتا ہے تو سارے دوزخی اس کی شدت گرمی کی وجہ سے چیخنے لگتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ دوزخ کی تہہ میں ایک کنواں ہے۔جسے فلق کہتے ہیں۔اس پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔جب وہ اٹھا دیا جاتا ہے۔تو اس میں ایک ایسی سخت آگ نکلتی ہے جس سے خود جہنم چیختی ہے۔علاوہ اس کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں۔مگر سب سے صحیح تر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فلق صبح کو کہتے ہیں یا دانہ اور گٹھلی کے پھوٹنے اور اُگنے کا نام ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یوسف علیہ السلام جب کنوئیں میں ڈالے گئے تھے تو آپ کے گھٹنے میں سخت درد ہوا ( شاید گرنے کے سبب چوٹ لگی ہو ) ایسا سخت درد ہوا کہ تمام رات جاگتے ہوئے گزری۔یہاں تک کہ طلوع صبح کا وقت ہو گیا۔تب ایک فرشتہ نازل ہوا جس نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگو۔وہ اس درد کو دور کر دیگا۔حضرت یوسف نے اس فرشتے کو کہا کہ تو دعا کر میں آمین کہوں گا چنانچہ اس فرشتے نے دعا کی اور حضرت یوسف نے آمین کہی۔تب خدا تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور وہ درد تھم گیا اور ان کو آرام ہو گیا۔تب حضرت یوسف نے دعا کی کہ اس وقت جس قدر بیمار ہیں اور تکلیف میں ہیں ان سب کو آرام دیا جائے۔فرشتے نے اس دعا پر بھی آمین کہی اور کہتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ صبح کے وقت ہر بیمار کو تھوڑا بہت افاقہ ہو جاتا ہے۔وہ دعا حضرت یوسف کی مفصلہ ذیل الفاظ میں تھی۔يَاعُد تي فِي شِدتِي وَ يَا مُونِسَى فِي وَحْشَتِي وَ رَاحِمَ غُرْيَتِي وَ كَاشِفَ كُرْبَتِي وَيَا مُجِيبَ دَعْوَتِي وَيَا الهِي وَالهَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ ارْحَمْ صِغَرَسِي وَ ضُعْفَ رُكْنِي وَقِلَّةَ حِيْلَتِي