حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 520
حقائق الفرقان ۵۲۰ سُوْرَةُ الْفَلَقِ الصُّبْحِ وَخَالِقِهِ وَمُدَيْرِهِ وَ مُطْلِعِهِ مَتَى شَآءَ عَلَى مَايُرَى مِنَ الصَّلَاحِ فِيْهِ وَيُقَالُ هُوَا لْخَلْقُ كُلُّهُ لِأَنَّهُمْ يَنْفَلِقُونَ بِالْخُرُوجِ مِنْ أَصْلَابِ الْآبَاءِ وَ أَرْحَامِ الْأُمَّهَاتِ كَمَا يَنْفَلِقُ الْحَبُّ مِنَ الثَّبَاتِ وَيُقَالُ الْفَلَقُ مَا يَنْفَلِقُ عَنِ الشَّيْءِ وَهُوَ يَعُةُ جَمِيعَ الْمَسْكَنَاتِ لِأَنَّهُ جَلَّ شَانُهُ فَلَقَ ظُلْمَةَ عَدمِهَا بِنُورِ ایجادِهَا - ترجمہ کسی شے کے پھٹنے کو یا بعض سے بعض کو جدا کرنے کو کہتے ہیں۔جیسا کہ عربی میں کہتے ہیں۔فَلَقْتُهُ فَانْفَلَقَ میں نے اُسے پھاڑا پس وہ پھٹ گیا۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فائق الإصباح صبح کا پھاڑنے والا ، ظاہر کرنے والا نمودار کرنے والا اور ایسا ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَالِقُ الْحَبِ وَالتَّوی دانے اور گٹھلی کے پھاڑنے والا اور اُن سے درخت بنانے والا اور ایسا ہی قرآن شریف میں آیا ہے۔فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِبُ بعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ (الشعراء: ۶۴) پس ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنی جماعت کو دریا میں لے چل۔پس وہ دریا پھٹ گیا۔اور جماعت کے واسطے راستہ ہو گیا اور لشکر صاف نکل گیا اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں ساتھ پروردگار فلق کے اس جگہ لفظ فلق حرف ل کی زبر کے ساتھ ہے اور اس کے معنی ہیں۔صبح کی روشنی اور اس کا چمکنا اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اے مخاطب حفاظت طلب کر اور پناہ مانگ، اس رب کے حضور میں جو صبح کا رب اور خالق اور مدبر ہے۔اور اس کے چڑھانے والا ہے۔جب چاہے اور جس کے لئے اس میں صلاحیت دیکھے اور بعض کا قول ہے کہ اس جگہ فلق سے مراد تمام مخلوقات ہے کیونکہ وہ سب کے سب مذکر کے اصلاب سے اور مؤنث کے ارحام سے نکلے ہیں۔ایسا ہی دانہ پھٹتا ہے تو اس سے سبزی نکلتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ فلق وہ ہے جو کسی بھے سے پھٹ کر جدا ہوتی ہے اور یہ عام ہے تمام مخلوقات پر۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے عدم کی ظلمت کو پھاڑ کر اس کو وجود کی روشنی میں لاتا ہے۔اور فلق کے ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو ذات صفحہ عالم سے ان ظلمات اور تاریکیوں کو ٹھوکر نے اور مٹادینے پر تام قدرت رکھتی ہے اسے یہ بھی طاقت اور قدرت ہے کہ جو شخص عاجزی کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے پناہ جو ہوتا ہے وہ اس کے تمام خوف اور