حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 43 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 43

حقائق الفرقان ۴۳ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّل تَعْلَمُونَ۔(الانعام: ۶۸۶۷ وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ط اثْتِنَا بِعَذَابِ اَلِيْم - وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمُ - - (الانفال: ۳۳ - ۳۴) اس آیت میں یہ بات بتائی کہ تیرے یہاں ہوتے ہوئے یعنی گلے میں وہ عذاب نہیں آئے گا۔وَ يَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ - قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِي تَسْتَعْجِلُونَ۔(النمل: ۷۲-۷۳) اس میں بتایا کہ یہ عذاب کچھ حصہ اس عذاب موعود کا ہو گا۔اور تمہاری تباہی اور استیصال کا شروع ہوگا۔وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ - قُلْ لَكُمْ مِنْعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ۔(سبا: ۳۰ ۳۱ ) - نوٹ۔نبوت کا دن ایک برس کا ہوتا ہے جیسے دن جو ساتھ صبح اور شام کے نبوت میں لکھا ہو یا شام یا صبح سے شروع کرے تو چوبیس گھنٹے کا شمار ہوتا ہے ورنہ ایک سال کا ( دیکھو اندرونہ بائبیل صفحہ ۳۱۳) پادری صاحبان غور کرو۔قرآن نے کیسا معجزہ دکھلایا کہ ان کے زوال کا وقت بھی بتا دیا۔اور یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا۔کیونکہ بدر کی لڑائی ٹھیک ایک برس بعد ہجرت کے واقع ہوئی یعنی ۱۵ جولائی ۶۲۲ ہ ء کو آنحضرت کے سے ہجرت کر کے مدینے تشریف لے گئے اور ۲۳ ء میں لے اور تیری قوم نے اسے جھٹلایا حالانکہ یہ حق ہے۔تو کہہ دے۔اے محمد میں تم پر وکیل نہیں ہوں۔ہر ایک خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے پس عنقریب تم جان لو گے۔اور جب کہنے لگے کہ یا اللہ اگر یہی دینِ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر برسا آسمان سے پتھر یالا ہم پر دکھ کی ماراور اللہ ہر گز عذاب نہ کرتا ان کو جب تک تو تھا اُن میں۔اور کہتے ہیں کہ کب ہے یہ وعدہ۔اگر تم سچے ہو۔تو کہ شاید تمہاری پیٹھ پر پہنچی ہو۔بعض چیز جس کی شتابی کرتے ہو۔اور کہتے ہیں۔کب ہے یہ وعدہ۔اگر تم سچے ہو۔تو کہہ تم کو وعدہ ہے ایک دن کا۔نہ دیر کرو گے اُس سے ایک گھڑی۔نہ شتابی۔