حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 519 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 519

حقائق الفرقان ۵۱۹ سُوْرَةُ الْفَلَقِ اور نامردی اور بخل سے اور قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۹۵٬۳۹۴) فلق : اس چیز کو کہتے ہیں جو کہ پھٹ کر پیدا ہو۔جیسا کہ دانہ جو زمین میں بویا جاتا ہے اور جب اس کونمی پہنچتی ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے اور اس میں سے ایک بڑا درخت پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی فلق صبح کو بھی کہتے ہیں کہ رات کی تاریکی پھٹ جاتی ہے اور اس میں سے صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے۔زجاج کا قول ہے الْفَلَقِ الصُّبْحُ لِأَنَّ اللَّيْلَ يَفْلِقُ عَنْهُ الصُّبْحُ وَيَفْرِقُى فعل بمعنى مفعول۔فلق صبح کو کہتے ہیں کیونکہ رات سے صبح نکلتی ہے اور جدا ہوتی ہے۔اس جگہ فعل مفعول کے معنوں میں آیا ہے۔اس کی مثال ہے هُوَ ابيِّنُ مِن فَلَقِ الصُّبْحِ۔ایسا ہی قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کی صفات میں بیان ہوا ہے کہ وہ فَالِقُ الْإِصْبَاح (الانعام: ۹۷) ہے۔رات کے وقت جب تمام دنیا پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔تو بادشاہ اور سپاہی ، امیر اور غریب سب برابر ہو جاتے ہیں۔تاریکی میں شناخت نہیں ہو سکتی کہ دشمن کون ہے اور دوست کون ہے۔کونسی چیز مفید ہے اور کون سی چیز ضر ر دینے والی ہے۔لیکن جب صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے تو انسان پہچان لیتا ہے کہ یہ میرا دوست ہے اور یہ دشمن ہے۔اور اس چیز سے مجھے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور اس سے نقصان کا احتمال ہوسکتا ہے گویا اس میں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار اگر چہ ہم اپنی نادانی اور بے علمی اور گناہ گاری کے سبب ایک ظلمت اور تاریکی در تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔لیکن تیری وہ ذات ہے کہ تمام تاریکیوں کو دور کر دیتی ہے اور روشنی اور نور پیدا کر کے دکھ دینے والی چیزوں سے انسان کو بچانے والا تو ہی ہے۔پس تو ہی ہم پر رحم فرما۔کیونکہ تیرے حضور میں ہم تمام تاریکیوں سے پناہ گزین ہوتے ہیں قَالَ الْعَرَبُ فِي لُغَاتِ الْقُرْآنِ الْفَلَقُ شَقُ السَّنِي أَوْ إِبَانَةُ بَعْضِهِ عَنْ بَعْضٍ يُقَالُ فَلَقْتُهُ فَانْفَلَقِ۔قَالَ اللهُ) تَعَالَى فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَقَالَ فَالِقُ الْحَيَّ وَ النَّوى ( الانعام : ١١٦) وَ قَالَ فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ (الشعرا : ۲۴)۔وقوله تعالى قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (الفلق :۲) الْفَلَقُ بِالتَّحْرِيكِ قِيْلَ هُوَ ضَوْءُ الصُّبْحِ وَإِنَارَتُهُ وَ الْمَعْلَى قُلْ يَأْمُخَاطِبُ اعْتَصِمُ وَ امْتَنِعْ بِرَبِّ