حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 503
حقائق الفرقان ۵۰۳ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ یہ نام کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔مشرک عربوں نے بھی اور شاعر عربوں نے بھی بجز خدا کی ذات کے اس لفظ کا استعمال کسی دوسرے کے حق میں نہیں کیا۔خواہ وہ کتنا ہی بڑا اور واجب التعظیم ان کا کیوں نہ ہو۔یه فخر بجر عرب کے اور کسی ملک اور قوم کو میتر نہیں۔زبان انگریزی سے میں خود تو واقف ہوں نہیں۔مگر لوگوں سے سنا ہے کہ اس زبان میں بھی کوئی معز ز لفظ خاص کر کے خالصتا اللہ نہیں ہے۔ہر لفظ جو وہ خدا کے واسطے بولتے ہیں وہ ان کی زبان کے محاورے میں اوروں پر بھی بولا جاتا ہے۔سنسکرت میں تو میں علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ اول ہی اول جو ان کی کتابوں میں خدا کا نام رکھا گیا ہے وہ اگنی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگنی آگ پر بھی بولا جاتا ہے علی لھذا القیاس اور اور جو نام بھی ویدوں میں پرمیشر پر بولے ہیں۔وہ سارے کے سارے ایسے ہی ہیں کہ جن کی خصوصیت خدا کے واسطے نہیں بلکہ وہ سب کے سب اور دیوی دیوتاؤں وغیرہ پر بھی بولے جاتے ہیں۔یہ فخر صرف اسلام ہی کو ہے کہ خدا کا ایسا نام رکھا گیا ہے کہ جو کسی معبود وغیرہ کے واسطے نہیں بولا جاتا۔اَحَد" وہ اللہ ایک ہے نہ کوئی اس کے سوا معبود اور نہ اس کے سوا کوئی تمہارے نفع و ضرر کا حقیقی مالک ہے۔کاملہ صفات سے موصوف اور ہر بدی سے منزہ اور ممتاز و پاک ذات ہے۔اللهُ الصَّمَدُ : اللہ ہے۔صد کہتے ہیں جس کی طرف ان کی احتیاج ہو اور خود نہ محتاج ہو۔صمد سردار کو کہتے ہیں۔اور صدر اس کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر سے نہ کچھ نکلے اور نہ اس میں کچھ گھسے۔یہ ایسا پاک نام ہے کہ انسان کو اگر اللہ تعالیٰ کے اس نام پر کامل ایمان ہو۔تو اس کی ساری حاجتوں کے لئے کام کافی اور سارے دکھوں سے نجات کے سامان ہو جاتے ہیں۔میں خود تجربةً کہتا ہوں اور اس امر کی عملی شہادت دیتا ہوں کہ جب صرف اللہ ہی کو محتاج الیہ بنالیا جاتا ہے تو بہت سے ناجائز ذرائع اور اعمال مثلاً کھانے پینے ، مکان، مہمانداری، بیوی بچوں کی تمام ضروری حاجات سے انسان بچ جاتا ہے اور انسان ایسی تنگی سے بچ جاتا ہے۔جو اس کو نا جائز وسائل سے ان مشکلات کا علاج کرنے کی ترغیب دیتی ہے جوں جوں دنیا خدا سے دور ہو کر آمدنی کے وسائل سوچتی ہے اور دنیوی آمد میں ترقی کرتی جاتی