حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 489 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 489

حقائق الفرقان ۴۸۹ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ یہ سورہ شریف ملتی ہے یعنی مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی۔اس میں بسم اللہ شریف کے بعد چار آیتیں ہیں۔اس کے الفاظ پندرہ ہیں اور حروف سینتالیس ہیں۔هو : ہو بھی اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔توریت میں زیادہ تر یہی نام خدا تعالیٰ کا آتا ہے۔عبرانی میں اس کا ترجمہ لفظ یہوواہ سے کیا جاتا ہے۔مگر عبرانی زبان کے ایک مردہ زبان ہونے کے سبب ٹھیک تلفظ اور اصلیت کے متعلق بہت اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔عبرانی حروف میں اس کو اس طرح سے لکھا جاتا ہے۔n 7 n 7 ی۔و چونکہ ابتدائی طرز تحریر زبان عبرانی میں حروف پر حرکات دینے کا رواج نہ تھا۔اس واسطے ٹھیک طور پر معلوم نہیں رہا کہ توریت میں یہ لفظ کس طرح سے پڑھا جا تا تھا۔بعض کہتے ہیں کہ یہ لفظ یا وہ ہے۔بعض کہتے ہیں یاھو سے ہے۔بعض کے نزدیک یہوواہ ہے۔آجکل کے یہودی اس لفظ کو خدا تعالیٰ کا ایک خاص مقدس نام مانتے ہیں۔اور بغیر خاص اوقات نماز اور روزہ کے اس لفظ کا منہ پر لانا گناہ جانتے ہیں۔اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ عبرانی زبان عربی زبان سے بگڑ کر بنی ہے۔اس واسطے یہ لفظ در اصل یاھو تھا۔ھو اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور یا حرف منادلی ہے۔جیسا کہ دعا میں کہا جاتا ہے۔اے خدا۔یا اللہ۔اسی سے بدل کر انگریزی میں جھو اہ JEHOVAH بن گیا ہے۔الغرض ھو اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔احد احد کے معنے ہیں۔ایک۔اکیلا۔ایک ہی۔عربی زبان میں واحد کے معنے بھی ایک ہیں۔اور احد کے معنے بھی ایک ہیں۔لیکن یہ اس پاک زبان کے عجائبات میں سے ہے کہ لفظ احد صرف اللہ تعالیٰ کے صفات میں بیان ہوتا ہے اور خدا کے سوائے دوسرے کی صفت میں کبھی بولا نہیں جاتا۔پھر ایک فرق واحد اور احد میں یہ ہے کہ جہاں واحد کا لفظ بولا جاوے۔وہاں سمجھا جاتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا اور تیسر ابھی ہے۔لیکن احد کے بعد دوسرا کوئی نہیں سمجھا جاسکتا۔