حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 488
حقائق الفرقان ۴۸۸ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ مَكِّيّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم اللہ کے اسم شریف کی مدد سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جس نے یکتائی اور بے نیازی مقدر کر رکھی تھی عملی طور پر یکتا و بے نیاز بنادیا۔۲ تا ۵ - قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُنْ لهُ كُفُوًا اَحَدٌ - ترجمہ۔کہ وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے احتیاج ہے۔نہیں جنا اس نے اور نہ وہ جنا گیا اور نہیں اس کے لیے برابری کرنے والا کوئی۔تفسیر۔او مخاطب تو کہہ دے۔اصل بات تو یہ ہے کہ خود بخود موجود جس کا نام ہے اللہ پوجنے کے لائق ، فرماں برداری کا مستحق ، وہ ایک ہے، اپنی ذات میں یکتا، صفات میں بے ہمتا ، ترکیب و تعدد سے پاک۔اللہ جس کا نام ہے، وہ اصل مطلب مقصود بالذات ہر کمال میں بڑھا ہوا جس کے اندر نہ کچھ جاوے کہ کھانے پینے وغیرہ کا محتاج ہو۔نہ اس کے اندر سے کچھ نکلے کہ کسی کا باپ بنے ، پس نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا۔اس کے وجود میں ، اس کے بقا میں۔اس کی ذات میں ، اس کی صفات میں کوئی بھی اس کے جوڑ کا نہیں۔اے رسول اس طرح کہو اور اقرار کرو اور یقین کرو اور لوگوں کو وعظ کرو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۱۱٬۲۱۰) واحد اور یگانہ ہے۔اللہ بے احتیاج ہے۔کسی کا محتاج نہیں۔بے نیاز ہے۔کسی کی اسے کوئی پروا نہیں۔اس نے کوئی بیٹا بیٹی نہیں جنا۔اور نہ خود اس کو کسی نے جنا تھا۔اور نہ اس کا کوئی کنبہ قبیلہ شریک برادری والا اور برابری کرنے والا ہے۔