حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 485

حقائق الفرقان ۴۸۵ سُوْرَةُ اللَّهَبِ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بہت ہی نالائق اور ناپاک کلمات بولا کرتا تھا اور حضرت مرزا صاحب کے حق میں پیشگوئی کی تھی کہ یہ تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائیں گے اور بدگوئی میں اور گالیاں دینے میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔خدا تعالیٰ نے ان تمام گالیوں اور بدگوئیوں کو ایک خنجر کی شکل میں واپس اس کے پیٹ میں جھونک دیا جہاں سے کہ وہ نکلی تھیں۔اس آیت شریف کے شانِ نزول میں یہ اتفاق ہے کہ وہ ابولہب کی گالیوں اور ایذاء کے مقابلہ میں نازل ہوئی تھی۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہلاکت کی بددعا کیا کرتا تھا۔گو اس امر میں کسی قدر اختلاف ہے کہ آیا یہ آیت اس بات پر نازل ہوئی۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر تمام قبائل کو جمع کیا اور انہیں خدا کے عذاب سے ڈرایا تو اس وقت ابولہب نے جھنجلا کر کہا کہ تجھ پر ہلاکت ہو۔کیا اسی واسطے تو نے ہمارا سارا دن خراب کیا ہے۔کوہ صفا کے نظارے کو اس زمانہ کے شاعر خواجہ الطاف حسین حالی صاحب نے اچھے پیرایہ میں ادا کیا ہے۔خدا انہیں جزائے خیر دے وہ لکھتے ہیں۔وہ فخر عرب زیب محراب و منبر تمام اہل مکہ کو ہمراہ لے کر گیا ایک دن حسب فرمان داور سوئے دشت اور چڑھ کے کوہِ صفا پر یہ فرمایا سب سے کہ اے آلِ غالب سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب کہا سب نے قول آجتک کوئی تیرا کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا کہا گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا کہ فوج گران پشت کوہِ صفا پر پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پا کر کہا ” تیری ہر بات کا یہاں یقین ہے کہ بچپن سے صادق ہے تو اور امین ہے کہا ” گرمری بات یہ دل نشیں ہے تو سن لوخلاف اس میں اصلا نہیں → کہ سب قافلہ یہاں سے ہے جانیوالا ڈرو اس سے جو وقت ہے آنیوالا