حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 483
حقائق الفرقان ۴۸۳ سُوْرَةُ اللَّهَبِ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اور آپ کے راستہ میں بچھا دیتی تھی۔تا کہ آپ کو تکلیف پہنچے اور رات کو جب آپ نماز کے واسطے باہر جائیں تو آپ کو کانٹوں کے سبب تکلیف ہو۔لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور اس کو خبر لگی کہ میرے اور میرے خاوند کے حق میں اس قسم کے الفاظ آنحضرت نے سنائے ہیں۔تو بڑی شوخی اور بے باکی کے ساتھ ایک رسی ہاتھ میں لئے آنحضرت کے پاس آئی اور اس طرح کہتی آتی تھی مُذعَمَّا آبَيْنَا دِينَهُ قَليْنَا وَ أَمْرَهُ عَصَيْنَا۔ہم نے ایک مذمت کئے گئے کا انکار کیا اور اس کے دین کو ہم نے ناپسند کیا اور اس کے حکم کی ہم نے نافرمانی کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن نابکار بجائے محمد کے مذم کہا کرتے تھے۔محمد کے معنے ہیں تعریف کیا گیا۔اور مدتم کے معنے ہیں مذمت کیا گیا۔نابکار دشمن ہمیشہ اس قسم کی شرارتیں کیا کرتے ہیں۔جیسا کہ آجکل کے بیوقوف مخالف لفظ قادیانی کو کادیانی لکھ کر ایک احمقانہ خوشی اپنے واسطے پیدا کر لیتے ہیں مگر ایسی باتوں سے کیا ہوسکتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ عزت دینا چاہتا ہے۔اس کو ذلیل کرنے کے واسطے کوئی ہزار ناک رگڑے اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔غرض اس قسم کے الفاظ بولتی ہوئی وہ آنحضرت کی طرف آئی۔آگے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابو بکر بیٹھے ہوئے تھے۔صدیق کو خوف ہوا کہ یہ شریر عورت ہے اور بے ڈھب طور پر غصہ میں ہے۔کچھ اذیت نہ دے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تشفی رکھو وہ مجھے نہ دیکھ سکے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس کی نظر حضرت ابو بکر پر پڑی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے نہ دیکھا اور حضرت ابوبکر سے پوچھنے لگی کہ مجھے خبر لگی ہے کہ تیرے دوست نے میری ہجو کی ہے۔صدیق اکبر نے فرمایا۔نہیں۔اس نے تیری ہجو نہیں کی ہجو سے مرادشاعرانہ ہجو ہے جو شاعر لوگ کسی دشمن کی کیا کرتے ہیں ) اور حضرت صدیق نے سچ کہا۔سورة تبت تو کلامِ خدائے علیم و حکیم ہے نہ کہ کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ سن کر وہ واپس چلی گئی۔اور کہتی تھی کہ قریش جانتے ہیں کہ میں تو ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔بھلا میری ہجو کس طرح کوئی کر سکتا ہے۔في جِيدِهَا : اس کی گردن میں جید بمعنے گردن ย