حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 38
حقائق الفرقان ۳۸ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ ٣- قَالُوا يُقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتبًا اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إلَى الْحَقِّ وَ إِلى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ (الاحقاف: ۳۱) ل نوٹ : حضرت موسیٰ کا قصہ بتکرارو کثرت قرآن میں مذکور ہونا اس امر کا اشارہ اور اظہار کرتا ہے کہ قرآن اپنے رسول نبی عربی کو مثیل موسی ثابت کرتا ہے۔امرسوم کی نسبت فرماتا ہے: -١- وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى - (النجم: ۵،۴) ٢ - لَا تُحَرِّكُ بِه لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ - إِنَّ عَلَيْنَا جَمُعَةَ وَ قُرْآنَهُ - فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ قُرانَهُ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَة - (القيامة : ۱۷ تا ۲۰) وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ منْ دُونِ اللهِ اِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ (البقرة: ۲۴) نوٹ۔کلام منہ میں ڈالنا یا دل میں ڈالنا۔اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کلام اُس نبی کے قلب نبوت پر لفظاً یا معنا بہ ہمیں ترتیب بلا تقدم و تاخر خدا کی طرف سے ڈالا گیا ہے۔آیت دوم میں خداوند خدا قرآن کا جامع اور قاری اپنی ذاتِ مقدس کو ٹھہراتا ہے۔اور آنحضرت کو صرف پڑھ سنانے والا مقرر فرماتا ہے۔یہ بڑا بھاری اشارہ پیشینگوئی کے امرسوم کی طرف ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں دوں گا۔ے بولے اے قوم ہماری۔ہم نے سنی ایک کتاب جو اُتری ہے موسی کے پیچھے۔سچا کرتی ہے سب اگلیوں کو۔سمجھاتی سچا دین اور راہ سیدھی۔ہے اور نہیں بولتا ہے اپنے چاؤ سے یہ توحکم ہے جو بھیجتا ہے۔سے نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان کہ شتاب اس کو سیکھ لے۔وہ تو ہمارا ذمہ ہے۔اس کو سمیٹ رکھنا اور پڑھانا۔پھر جب ہم پڑھنے لگیں تو ساتھ رہ۔تو اس کے پڑھنے کے۔پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اس کوکھول بتانا۔ہے اور اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جو ا تارا ہم نے اپنے بندے پر تو لاؤ ایک سورت اس قسم کی اور بلاؤ جن کو حاضر کرتے ہو اللہ کے سوائے۔اگر تم سچے ہو۔