حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 468
حقائق الفرقان ۴۶۸ سُوْرَةُ النَّصْرِ ان احکام تسبیح اور تحمید اور استغفار کے ہے جو کہ انسان کو اپنے کمال پر پہنچانے کے واسطے کمال درجہ کے ہتھیار ہیں۔اسی سورہ شریفہ نے کفار مکہ کو باوجود ایسی سخت بغاوتوں اور سرکشیوں کے اور اذیت رسانیوں کے فتح مکہ کے وقت ہر طرح کے عذاب سے بچا لیا۔اور آنحضرت نے اپنے خلق عظیم کے ساتھ سب کو معاف کر دیا اور فرما یالات قریب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔بلکہ ان کے گناہوں کے واسطے خدا تعالیٰ کے حضور میں معافی چاہی۔کیونکہ استغْفِرُ اللہ کا لفظ اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور میں گناہ گاروں کے واسطے شفاعت کریں اور ان کو عذاب میں گرنے سے بچاویں۔نئی فوجیں: یہ اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت کا وعدہ اور قوموں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے کی پیشگوئی جو اس سورۃ شریف میں کی گئی ہے۔اگر چہ اس کے پورا ہونے کا ابتدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔تا ہم چونکہ مذہب اسلام ہمیشہ کے واسطے ہے۔اس واسطے ظلی طور پر جب کبھی ضرورت ہو یہ وعدہ پورا ہوتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جبکہ اسلام بہت ضعیف ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے ایک فرستادہ کے ذریعہ سے یہ خوشخبری دوبارہ سنائی ہے کہ اس کی طرف سے اسلام کے واسطے فتح و نصرت کا وقت پھر آ گیا ہے۔اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے اور پھر اسلامیوں میں وہی روحانیت پھونکی جائے گی۔مبارک ہیں وہ جو تکبر نہ کریں اور خدا کے کام کی عزت کریں تاکہ ان کے واسطے بھی عزت ہو۔اے خدا ہمارے گناہوں کو بخش اور اپنے وعدوں کو پورا کر کہ تو سچے وعدوں والا ہے۔اسلام کی عزت کو دنیا میں قائم کر دے اور اسلام کے دشمنوں کو ذلیل اور پست اور ہلاک کر دے خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔کیونکہ اب تیری قدرت نمائی کا وقت ہے اور تو بڑی طاقتوں والا خدا ہے۔آمین ثم آمین۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۸ / نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۸۰ تا ۳۸۳) یہ ایک مختصر اور چھوٹی سی سورۃ (النصر) قرآن شریف کے آخری حصہ میں ہے۔مسلمانوں کے بچے علی العموم نمازوں میں اسے پڑھتے ہیں۔اس پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی