حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 469 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 469

حقائق الفرقان ۴۶۹ سُوْرَةُ النَّصْرِ کرنے اور اس کی جناب میں قدم صدق پیدا کرنے کے لئے اور اپنی عزت و آبروکودنیا و آخرت میں بڑھانے کے واسطے انسان کو مختلف اوقات میں مختلف موقعے ملتے ہیں۔ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں اندھیر ہوتا ہے اور ہر قسم کی غلطیاں اور غلط کاریاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔خدا کی ذات پر شکوک ، اسماء الہیہ میں شبہات ، افعال اللہ سے بے اعتنائی اور مسابقت فی الخیرات میں غفلت پھیل جاتی ہے اور ساری دنیا پر غفلت کی تاریکی چھا جاتی ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی برگزیدہ بندہ اہلِ دنیا کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے مولیٰ کی عظمت و جبروت دکھانے ، اسماء الہیہ وافعال اللہ سے آگاہی بخشنے کے واسطے آتا ہے تو ایک کمزور انسان تو ساری دنیا کو دیکھتا ہے کہ کس رنگ میں رنگین اور کس دھن میں لگی ہوئی ہے اور اس مامور کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ سب سے الگ اور سب کے خلاف کہتا ہے گل دنیا کے چال چلن پر اعتراض کرتا ہے۔نہ کسی کے عقائد کی پرواہ کرتا ہے۔نہ اعمال کا لحاظ۔صاف کہتا ہے کہ تم بے ایمان ہو اور نہ صرف تم بلکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ( الزوم:۴۲) سارے دریاؤں، جنگلوں، بیابانوں، پہاڑوں اور سمندروں اور جزائر ، غرض ہر حصہ دنیا پر فساد مچا ہوا ہے۔تمہارے عقائد صحیح نہیں ، اعمال درست نہیں، علم بودے ہیں، اعمال ناپسند ہیں۔قومی اللہ تعالیٰ سے دُور ہو کر کمزور ہو چکے ہیں۔کیوں؟ بمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاس (الروم : ۴۲) تمہاری اپنی ہی کرتوتوں سے۔پھر کہتا ہے۔دیکھو میں ایک ہی شخص ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا ( الزوم:۴۲) لوگوں کو ان کی بد کرتوتوں کا مزہ چکھا دیا جاوے۔بہت سی مخلوق اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتی ہے۔اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ بالکل غفلت ہی میں ہوتے ہیں۔انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے؟ اور کچھ مقابلہ وانکار پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں۔جن میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت دکھانا چاہتا ہے۔وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو مال و دولت، کنبہ اور دوستوں کے لحاظ سے بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں۔بڑے بڑے رؤسا اور اہل تدبیر لوگوں کے مقابلہ میں ان کی کچھ ہستی ہی نہیں ہوتی۔یہ اس مامور کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا