حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 466
حقائق الفرقان ۴۶۶ سُوْرَةُ النَّصْرِ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح آئی۔اور اہلِ یمن آئے۔اہلِ یمن ایک قوم ہے جن کے دل نرم ہیں اور اہل یمن اہلِ ایمان اور اہلِ فقہ اور اہلِ حکمت ہیں اور فرمایا کہ مجھے یمن کی طرف سے تمہارے رب کی خوشبو آتی ہے۔یعنی اہل یمن اہل اللہ ہیں۔اہلِ یمن اس سورہ شریف کے نزول کے بعد ایمان لائے تھے۔تسبیح تحمید و استغفار : اس میں اول تسبیح کا حکم ہے پھر تحمید کا۔اور پھر استغفار کا۔اس ترتیب میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم پر ہیں۔ایک صفات سلبیہ اور دوم صفات ثبویہ۔صفات سلبیہ وہ ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کا تمام نقائص سے پاک اور منزہ ہونا اور اعلیٰ و برتر ہونا ظاہر کرتی ہیں۔سلبیہ کے معنے ہیں سلب کر نیوالی ، کھینچنے والی۔اور صفات ثبو یہ وہ ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اکرام اور عزت اور بلندی کا اظہار کرتی ہیں۔اس ترتیب میں صفات سلبیہ کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔اور صفات ثبویہ کو ان کے بعد لیا گیا ہے۔تسبیح اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ تمام بدیوں سے منزہ اور بے عیب اور پاک ذات ہے۔تم بھی اس کی تسبیح کرو۔یعنی اس کا مقدس اور پاک ہونا بیان کرو۔اور اس کی تحمید کرو کہ وہ تمام حمد کا مالک ہے اور سچی تعریف اسی کے لائق ہے۔اس کے بعد استغفار ہے جو کہ انسان کو اپنے قصور نفس اور کمزوری کی طرف توجہ دلاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بخشش کی طرف انسان کو کھینچتا ہے کہ اس کے سوائے انسان کا گزارہ نہیں اور انسان کے نفس کو کامل کرنے والی وہی ذات پاک ہے۔جس کے ساتھ بچے اور خالص تعلق کے ذریعہ سے انسان بدیوں سے نجات پاسکتا ہے اور نیکیوں کے حصول کی اس کو تو فیق ملتی ہے۔دِينِ الله : وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ اَفَوَاجًا اور تو نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے۔اس جگہ دین اللہ سے مراد دین اسلام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کا منشاء یہی تھا کہ مخلوق الہی دین اللہ میں داخل ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور قرآن شریف کے کلام الہی ہونے پر ایمان لاوے اور شعار اسلامی نماز روزہ حج زکوۃ کی پابند ہو۔چنانچہ جب تک یہ سب کچھ ہو نہ لیا۔لوگوں کا