حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 37
حقائق الفرقان ۳۷ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ دکھایا اور تمام امور مندرجہ پیشین گوئی کو تسلیم کر کے بڑے دعوئی سے کہا کہ آنحضرت کے سوا اور کوئی اس کا مصداق ممکن نہیں۔امر اول۔بنی اسمعیل بنی اسرائیل کے بھائی ہیں۔دیکھو قرآن میں آنحضرت کو حکم ہوا۔b وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء : ۲۱۵) اس پر آنحضرت اپنی قوم کو حکم دیتے ہیں۔وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَج مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ (الحج : ٧٩) - رَبَّنَا إِلَّ أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ( ابراهيم : ۳۸) دیکھو۔قرآن نے صاف بتایا۔قرآن نے صریح کہا۔قریش لوگو! تم اپنے باپ ابراہیم کے مذہب کو اختیار کرو۔امردوم۔وہ نبی موسی کا سا ہوگا۔اور قرآن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت لکھا ہے۔ا - إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ( المزمل: ١٢) ۲ - قُلْ اَرَعَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهِ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ه عَلَى مِثْلِهِ (الاحقاف:11) شاھد کی تنوین واسط تفخیم تعظیم کے ہے۔اور لفظ مثلیہ قابل غور ہے۔لے اور ڈر سنادے اپنے نزدیک کے ناتے والوں کو۔اور محنت کر واللہ کے واسطے جو چاہیے اُس کی محنت۔اُس نے تم کو پسند کیا اور نہیں رکھی دین میں تم پر کوئی مشکل۔دین تمہارے باپ ابراہیم کا۔اس نے نام رکھا تمہارا حکم بردار پہلے سے۔اے رب میں نے بسائی ہے ایک اولاد اپنی میدان میں جہاں کھیتی نہیں ہے تیرے ادب والے گھر کے پاس۔۔ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول بتانے والا تمہارا جیسے بھیجا فرعون کے پاس رسول۔۵، تو کہہ۔بھلا دیکھو تو۔اگر یہ ہو اللہ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا۔اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک ایسی کتاب کی۔پھر وہ یقین لایا۔