حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 36

حقائق الفرقان ۳۶ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ حصہ اول۔اس پیشین گوئی میں موسی نے بڑا بسط کیا ہے۔اور جہاں تک ممکن تھا۔اس نبی کا نشان ظاہر کیا۔اول۔اُس نبی کی قوم کو بتایا کہ وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں سے ہوگا۔دوم۔وہ نبی مجھ سا ہوگا ( تشبیہ محل تأمل کہ کس امر میں موسیٰ سا ہو گا ) سوم۔خدا کا کلام اس کے منہ میں ہوگا۔چہارم۔جو کچھ باری تعالیٰ اُس سے فرمائے گا۔وہ سب کچھ کہہ دے گا۔پنجم۔جو کوئی اس کی مخالفت کرے گا۔اور کہا نہ سنے گا۔وہ سزا یاب ہوگا۔ششم۔اگر وہ نبی بدوں حکم باری تعالیٰ کے کچھ کہے تو وہ مارا جائے گا۔ہفتم۔وہ نبی توحید کا واعظ۔غیر معبودوں کی پرستش کا مانع ہوگا۔اگر غیر معبودوں کے نام سے کچھ کہے گا تو مارا جائے گا۔ہشتم۔اس کی پیشین گوئیاں پوری ہوں گی۔اور جھوٹے نبی کی کوئی پیشین گوئی پوری نہ ہوگی۔"کچھ" کے لفظ پر غور کرو۔جو بشارت کے اس فقرے میں ہے (جب نبی کچھ خداوند کے نام سے کہے)۔نہم۔سچا اس قابل ہے کہ تو اس سے ڈرے۔الا جھوٹا نبی چونکہ جلد ہلاک ہو جاوے گا۔تواس سے مت ڈر۔یہی چند باتیں اس پیشینگوئی میں ہیں جن پر ناظرین کو غور کرنا چاہیے۔موسی نے اپنی مثلیت کے لئے اپنی کوئی خاص صفت ان امور کے سوا بیان نہیں کی۔گوموسی میں ہزاروں اور صفات ہوں۔الا یہ امر کہ وہ نبی مجھ سا رکن صفات میں ہو گا۔سوائے امور مذکورہ پیشین گوئی کے بیان نہیں فرمایا۔پس ہم یقین کرتے ہیں اور ہر منصف تسلیم کرے گا کہ انہیں امور میں تشبیہ اور مثلیت موسی کو مقصود تھی۔علاوہ بریں جب کسی چیز کو کسی چیز کا مثل کہا جاتا ہے تو صرف چند امور محققہ میں تشبیہ مطلوب ہوتی ہے۔اب ہم دکھلاتے ہیں کہ قرآن نے اس پیشین گوئی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ثابت ہونے کا صرف دعوای ہی نہیں کیا۔بلکہ کل مدارج طے کر کے سچا کر