حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 457 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 457

حقائق الفرقان ۴۵۷ سُوْرَةُ النَّصْرِ کہ نُعِیت الی نفسی اور آپ نے سمجھ لیا کہ ہمارا کام تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔اور اب وقت آ گیا کہ ہم اپنے خدا کے پاس چلے جاویں۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ جو آپ کا کام تھا۔وہ پورا ہو گیا ہے۔اور اب آپ کو اس دار فانی کو چھوڑنے کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ نے ظاہر فرمایا کہ اب میں عالم باقی میں انتقال کروں گا۔اس بات کوسن کر جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں۔آپ نے فرمایا تم کیوں روتی ہو؟ اہلِ بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے تم ہی ملو گی۔یہ سن کر وہ مسکرانے لگیں۔اس میں بھی ایک پیشگوئی تھی۔چنانچہ اس کے بعد جلد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔اور آپ کے بعد اہلِ بیت میں سے سب سے اول جس نے وفات پائی۔وہ حضرت فاطمہ ہی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا یہ عجیب نمونہ ہے کہ حضرت فاطمہ کو آنحضرت کی وفات کی خبر نے رلا دیا۔لیکن پھر اپنی وفات کی خبر نے اس واسطے ہنسا دیا کہ اس میں آنحضرت کے ساتھ دوسرے عالم میں ملاقات کی جلد صورت پیدا ہوگئی تھی۔اپنے مرنے کا خوف نہیں اور آنحضرت کے ساتھ ملاقات کی خوشی غالب ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۸٬۲۱ نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۷۶ تا ۳۷۹) فتح مکہ: اس سورہ شریف میں اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ میں لفظ فتح سے مراد فتح مکہ ہے۔فتح مکہ کو فتح الفتوح بھی کہتے ہیں۔کیونکہ مکہ کی فتح تمام اسلامی فتوحات کی ابتدا تھی۔فتح مکہ کا واقع اس طرح سے ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک رؤیا دیکھا کہ آپ اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم مکہ معظمہ کو گئے ہیں اور وہاں مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہوئے ہیں اور سر منڈاتے ہیں اور بال کترواتے ہیں جیسا کہ مکہ معظمہ سے احرام کھولنے کے بعد کیا جاتا ہے۔چونکہ اس وقت مسلمان کفار کے ہاتھوں سے بہت تکلیف اٹھا رہے تھے اور مکہ میں کفار کا غلبہ تھا اور مسلمانوں کو زیارت کعبتہ اللہ کے حصول میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا تھا۔اس واسطے اس مبشر مکاشفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے