حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 453 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 453

حقائق الفرقان ۴۵۳ سُورَةُ النَّصْرِ جاسکتا۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت پر ایک بین اور زندہ دلیل ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے میں ایسی کامیابی دیکھی کہ اس کی نظیر پہلے کسی نبی کے حالات میں پائی نہیں جاتی۔بِحَمْدِ رَبِّكَ : ساتھ تعریف پروردگار اپنے کے۔بہ ستائش پر وردگار تو۔یعنی اپنے رب کی تعریف کر کہ اس نے اپنی خاص ربوبیت کے ذریعہ سے تجھے ہر معاملہ میں کامیاب کیا اور فتح اور نصرت عطا کی ہے۔یہ اسی قادر توانا کا کام ہے کہ ایک یتیم کو دنیا کا بادشاہ بنادے اور ایسی فتح عطا کرے جس کی نظیر دنیا بھر کی تاریخ میں موجود نہ ہو۔وَاسْتَغْفِرُهُ : اور اس سے مغفرت طلب کر۔غفر کے معنے ہیں ڈھانکنا۔دبانا۔تمام انبیاء خدا تعالیٰ سے مغفرت مانگا کرتے تھے۔اور مغفرت مانگنے کے یہ معنی ہیں کہ انسان چونکہ کمزور ہے۔اس کو معلوم نہیں کہ کونسا کام اس کے واسطے بہتری کا ہے۔اور کون سا نقصان کا کام ہے اور تکلیف کا راستہ ہے۔پس مغفرت ایک دعا ہے کہ انسان اپنے خدا سے یہ دعا مانگتا ہے کہ وہ اس کے واسطے نیکی کے راہ پر چلنے کے اسباب مہیا کرے۔جن سے وہ بدی سے بچار ہے اور کسی طرح کے حرج اور تکلیف میں پڑنے سے محفوظ رہے۔خدا تعالیٰ کے انعام کے حاصل کرنے کے واسطے مغفرت کا طلب کرنا نہایت ضروری ہے۔استغفار کے معنے اور تشریح میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ حضرت اقدس مسیح موعود کی تحریر نقل کر دی جاوے اور وہ یہ ہے۔استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔یہ لفظ غفر سے لیا گیا ہے۔جو ڈ ہانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مستغفر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد ہے کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈہانک لے۔لیکن اصل اور