حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 452

حقائق الفرقان ۴۵۲ سُورَةُ النَّصْرِ کی رپورٹ کرنی پڑتی ہے کہ فلاں امیدوار نے اپنے پرچہ میں ایسی شرارت کی ہے۔پس وہ فقط فیل ہی نہیں ہوتے بلکہ آئندہ کے واسطے مدارس سے خارج کئے جاتے ہیں۔اور سخت نامرادی کے گڑھے میں پھینکے جاتے ہیں۔جہاں سوائے رونے اور دانت پینے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔يَدخُلُونَ : داخل ہوتے ہیں في دِينِ اللهِ : اللہ تعالیٰ کے دین میں افواجا : فوج در فوج۔پہلے تو کوئی ایک آدھ مسلمان ہوتا تھا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف فرما تھے۔بعد میں جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی تو زیادہ تعداد ہونے لگی۔لیکن پھر بھی ترقی زور کے ساتھ نہ تھی۔یہاں تک کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو گروہوں کے گروہ اور جماعتوں کی جماعتیں دین الہی میں داخل ہونے لگیں۔کیونکہ تمام مشکلات درمیان میں سے اٹھ گئی تھیں اور حجاب دور ہو چکے تھے۔اورا کا بر مجرم ہلاک ہو چکے تھے۔فسيخ : پس تسبیح کر۔پس پاکی بیان کر۔التَّسْبِيحُ هُوَ التَّطْهِيرُ : تسبیح پاکیزگی اور طہارت کو کہتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد خانہ کعبہ کی تطہیر ہے۔کیونکہ کفار نے اس میں بت رکھے ہوئے تھے اور فتح مکہ کا یہ نتیجہ تھا کہ تمام بت وہاں سے نکال دیئے گئے اور اس گھر کو خدا تعالیٰ کی اس عبادت کے واسطے خاص کیا گیا۔جس کے لئے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل نے اپنے کاندھوں پر اینٹیں اٹھا کر اس کی بناء کی تھی۔خدا تعالیٰ کے برگزیدے جب اپنے رب کے حضور میں کوئی اخلاص کا کام کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ اس کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام والبرکات نے جنگل بیابان کے درمیان جہاں آدمی چھوڑ چرند پرند بھی نہ ملتا تھا۔جب خدا کے حکم کے مطابق اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑا اور بعد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے واسطے اس جگہ گھر بنایا تو خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک شہر آباد کر دیا۔اور بالآخر جب کفار نے اس گھر میں بتوں کا ٹھکانہ بنادیا ت محمد مجیسے پاک دل کو اس گھر کے مظہر کرنے کا جوش عطا کیا اور خدا تعالیٰ کے اس برگزیدہ نے وہ گھر ایسا پاک کیا کہ اس کے بعد کوئی مشرک نزدیک بھی نہیں