حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 451
حقائق الفرقان ۴۵۱ سُوْرَةُ النَّصْرِ نشان دیکھنے کے بعد ایمان لے آتے ہیں۔اور مخالفت کی طرف نہیں دوڑتے۔اور رفتہ رفتہ محبت اور اخلاص میں بہت بڑی ترقی کر جاتے ہیں۔اس کے بعد تیسرے درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کے قہری عذاب نازل ہوتے ہیں۔اور ہر طرف سے فتوحات اور نصرت کے نشانات نمودار ہوتے ہیں تو ان کے واسطے سوائے اس کے چارہ نہیں ہوتا کہ وہ بھی مومنوں کے درمیان شامل ہو جائیں۔اول اور دوم درجہ کے لوگوں کی خدا تعالیٰ نے بہت تعریف کی ہے۔اور ان کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المائدہ:۱۲۰) کا خطاب دیا ہے۔مگر تیسرے طبقہ کے لوگوں کا ذکر قرآن شریف میں صرف اتنا ہے کہ رایت النَّاسَ تو نے لوگوں کو دیکھا ہے۔کیونکہ وہ عوام ہیں۔خواص میں ان کا ذکر نہیں۔پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ قرآن شریف میں ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا گیا کہ وہ دین اللہ میں داخل ہونے والے لوگ ہیں۔اس زمانہ میں خدا کے فرستادہ رسول حضرت مہدی معہود کے پیرو انہیں تین قسم کے لوگوں میں مشتمل ہیں۔بعض تو وہ اولین سابقین میں سے ہیں جو حضرت کے دعوئی مسیحائی سے بھی پہلے آپ کے ساتھ خلوص محبت رکھتے تھے۔اور دنیا میں کوئی بات ایسی نہ ہوئی جو ان کے خلوص اور محبت کو ایک قدم پیچھے ہٹانے والی ہو۔حضرت کا دعولی ان کے واسطے کوئی نئی بات نہ تھی۔ہر ابتلا کے وقت انہوں نے قدم آگے بڑھایا ان کی مثال حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ہیں۔ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ازل سے ایک فطرتی مناسبت اپنے رسول کے ساتھ عطا کی ہے کہ وہ اس سے علیحدہ رہ ہی نہیں سکتے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو کچھ کتابیں پڑھ کر اور کچھ نشانات دیکھ کر اور کچھ دیکھ بھال کر اس مقدس سلسلہ میں داخل ہوئے اور دن رات انہوں نے اس میں ترقی کی اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کے شکر گزار ہوئے اور اپنے مال اس راہ میں خرچ کئے۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کو طاعون نے یا زلزلے نے خوفزدہ کر کے اس طرف کھینچا۔پھر بہر حال وہ بھی خوش قسمت ہیں۔کیونکہ پاس شدوں کی فہرست میں ان کا نام درج ہو گیا۔اور فیل شدوں کا نام تو کسی فہرست میں لکھا ہی نہیں جاتا سوائے ان فیل شدوں کے جو اپنے پر چوں میں شرارت کے ساتھ ناجائز باتیں لکھ دیتے ہیں تو خواہ مخواہ متن کو ان لے اللہ ان سے خوش ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو چکے۔