حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 446
حقائق الفرقان ۴۴۶ سُورَة الْكَافِرُونَ لوگ تو اس لفظ اور خطاب کو خوشی سے قبول کرتے تھے۔سن لو۔قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ۔کے معنے ہوئے کہ وے اے کا فرو ہوشیار ہوکر اور توجہ سے میری بات کو لا اعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ۔میں ان بتوں کی ، ان خیالات کی ان رسوم و رواج کی اور ان ظنوں کی فرماں برداری نہیں کرتا۔جن کی تم کرتے ہو۔ان لوگوں میں اکثر لوگ تو ایسے ہی تھے جو رسم و رواج، عادات اور بتوں کی اور ظنوں اور وہموں کی پوجا میں غرق تھے۔ہاں بعض ایسے بھی تھے کہ جو دہر یہ تھے۔مگر زیادہ حصہ ان میں سے اوّل الذکر لوگوں میں سے تھا۔خدا کو بڑا خدا جانتے تھے۔اور خدا سے انکار نہ کرتے تھے۔بعض ایسے بھی کافر تھے جو خدا کو بھی مانتے تھے اور بتوں سے بھی الگ تھے۔رسم و رواج میں بھی نہ پڑے تھے۔آنحضرت کے پاس آنے کو اور آپ کی فرماں برداری کرنے ہی کو اپنی سرداری کی ہتک جانتے تھے۔اور ان کے واسطے ان کا کبر اور بڑائی ہی حجاب اور باعث کفر ہورہی تھی۔ولا انتم عبدُونَ مَا اَعْبُدُ۔اور نہ ہی تم میرے معبود کی عبادت کرتے نظر آتے ہو۔وَلَا أَنَا عَابِدُ ما عَبَدتُمْ۔اور نہ ہی میں کبھی تمہاری طر ز عبادت میں آؤں گا۔وَلَا أَنْتُمْ عِيدُونَ مَا أَعْبُدُ۔اور نہ ہی تم اپنے رسوم و رواج، جتھے اور خیالات، اپنے بتوں اور مہنتوں کو چھوڑتے نظر آتے ہو تو اچھا۔پھر ہمارا تمہارا یوں فیصلہ ہوگا کہ لَكُمْ دِينَكُمْ وَلَی دِینِ۔میرے اعمال اور عقائد کا نتیجہ میں پاؤں گا اور تمہارے بدکردار اور عقائد فاسدہ کی سزا تم کو ملے گی۔پھر اس وقت پتہ لگ جاوے گا کہ کون صادق اور کون کا ذب ہے۔اس کا جو نتیجہ نکلا۔وہ دنیا جانتی ہے۔ہر ایک نے سن لیا ہو گا کہ آنحضرت دنیا سے کس حالت میں اٹھائے گئے اور آپ کے اتباع کو دنیا میں کیا کچھ اعزاز اور کامیابی نصیب ہوئی اور آپ کے وہ دشمن کہاں گئے اور ان کا کیا حشر ہوا۔کسی کو ان کے ناموں سے بھی واقفیت نہیں۔بس یہی نمونہ اور