حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 442
حقائق الفرقان ۴۴۲ سُورَة الْكَافِرُونَ تک قرآن شریف کا ایک نقطہ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ مذہب اسلام میں دینی اختلاف کی وجہ سے نہ کوئی لڑائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور نہ آپ کے بعد کبھی کسی کو اجازت ہے کہ دینی اختلاف کی وجہ سے کسی کو قتل کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کفار نے جب مسلمانوں کو سخت دکھ دیا اور طرح طرح کے ایذاء کے ساتھ پہلے مسلمانوں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا اور بڑی بڑی فوجیں لے کر ان پر چڑھائیاں کیں تو بہت سے صبر اور تحمل کے بعد جب وہ کسی طرح بھی باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ ایسے شریروں سے اپنا بچاؤ کریں اور ان کو شرارت کی سزا دیں۔جہاد کے واسطے جو کچھ حکم تھا۔یہی تھا۔اور اس زمانہ میں بہ سبب اس کے کہ مذہب کی خاطر مسلمان کسی ملک میں دکھ نہیں دئے جاتے۔خود ان کی بھی ضرورت نہیں رہی۔سورہ کافرون میں تو خود جہاد کے کرنے یا نہ کرنے کا کوئی تذکرہ بھی نہیں۔لیکن اگر بہر حال یہ سمجھا ہی جاوے کہ اس سورہشریف میں جہاد کے متعلق کوئی حکم ہے تو وہ جہاد کے جواز کا ہوسکتا ہے نہ کہ اس کے نسخ کا۔کیونکہ اس سورۃ میں مخالفوں کو ایک چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اپنے دین کے ساتھ زور آزمائی کرو۔اور ہم اپنے دین کی قوت کے ساتھ تمہارا مقابلہ کرتے ہیں۔پھر دیکھو کہ خدا کس کو کامیاب کرتا ہے۔اور یاد رکھو کہ یہ کامیابی بہر حال اسلام کے واسطے ہے۔پس یہ سورۃ کسی حالت میں منسوخ نہیں اور نہ کوئی اور حصہ قرآن شریف کا منسوخ ہوا یا ہوسکتا ہے۔مقام نزول: جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ یہ سورہ شریف کی ہے مگر ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ مدنی ہے ایسا ہی بعض دوسری سورتوں کے متعلق بھی بظاہر اس قسم کا اختلاف روایات میں معلوم ہوتا ہے مگر ممکن ہے کہ بعض سورتیں اور آیتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ ایک بار بلکہ کئی بار نازل ہوئی ہوں۔جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعود کے حالات میں دیکھتے ہیں کہ ایک پیشین گوئی وحی الہی میں ایک